سعودی عرب اورایران میں تعلقات کی بحالی علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہے: شہزادہ فیصل

اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں سعودی عرب کے کردارکو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے:حسین امیر عبداللہیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔

الریاض میں اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ طے شدہ سکیورٹی اور اقتصادی معاہدوں کو فعال کرنے کا خواہاں ہے۔انھوں نے ورلڈ ایکسپو 2030 کی میزبانی کی سعودی عرب کی کوششوں کی حمایت پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔

حسین امیرعبداللہیان نے الریاض میں ہونے والی بات چیت کو نتیجہ خیز قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں سعودی عرب کے کردارکو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک دیرینہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی مقررہ وقت پر سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔

واضح رہے کہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جون میں تہران کا تاریخی دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے حسین امیر عبداللہیان اور صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تھی۔

چین کی ثالثی میں مارچ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت الریاض اور تہران نے ایک دوسرے کے علاقوں میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور 20 سال قبل سلامتی اور اقتصادی تعاون سے متعلق طے شدہ معاہدوں پرعمل درآمد پر اتفاق کیا تھا۔

یادرہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر ایرانی حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کردیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں