لیبیا تنازع

لیبی وزیراعظم کا طرابلس میں 45 ہلاکتوں کے بعدملیشیاؤں کو مزید لڑائی پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں اس ہفتے خونریز جھڑپوں میں 45 افراد کی ہلاکت کے چند روز بعد دومتحارب حکومتوں میں سے ایک کے وزیراعظم نے خبردار کیا ہے کہ ان کی حکومت ملیشیاؤں کی مزید لڑائی برداشت نہیں کرے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق 444 بریگیڈ اور اس کی حریف اسپیشل ڈیٹرنس فورس کے جنگجوؤں کے درمیان پیر کی رات تشدد شروع ہوا تھا اور اس کا سبب بریگیڈ کے سینیر کمانڈر محمود حمزہ کی گرفتاری بنی تھی۔انھیں طرابلس کے ایک ہوائی اڈے پر مخالف گروپ نے حراست میں لے لیا تھا۔

لیبیا کے ذرائع ابلاغ میں بدھ کی رات نشر ہونے والی فوٹیج کے مطابق طرابلس میں قائم حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حمزہ کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ اپنی ملیشیا کے ہیڈ کوارٹرزمیں لوٹ چکے ہیں۔

عبدالحمید الدبیبہ نے طرابلس سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کے ساتھ ٹیلی ویژن سے تقریر نشر کی ہے اور کہا کہ:’’ہم جھڑپوں کی آواز کے عادی ہیں، لیکن ان کا شہریوں کے قریب کا آنا ممنوع ہے‘‘۔

طرابلس میں قائم حکومت کے وزیر اعظم نے اپنی 45 منٹ کی تقریر میں دھمکی دی کہ ’’اگر لڑائی جاری رہتی ہے تو وہ دونوں ملیشیاگروپوں کے خلاف ’دیگر اقدامات‘ متعارف کرائیں گے‘‘۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کمانڈر حمزہ کی رہائی میں الدبیبہ اور ان کی حکومت کا کیا کردار تھا۔

طرابلس میں قائم وزارتِ داخلہ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اس نے دارالحکومت کے ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے جہاں سب سے زیادہ شدید لڑائی ہوئی ہے۔اس نے ایک سیچوایشن روم بھی قائم کیا ہے ، لیکن بدھ تک شہر میں عارضی سکون لوٹ آیا تھا۔

لیبیا کے ایمرجنسی میڈیسن اور سپورٹ سنٹر کے ترجمان ملک مرسیط نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 45 ہو گئی ہے جو منگل کے روز 27 تھی جبکہ 146 افراد زخمی ہوئے تھے۔یہ واضح نہیں ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے عام شہری تھے۔

یادرہے کہ سنہ 2014 کے بعد سے لیبیا دو متحارب حکومتوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ان میں سے ایک طرابلس میں اور ایک سرت میں کام کر رہی ہے۔اس تقسیم کو ختم کرنے اور حریف حکومتوں کو متحد کرنے کے لیے متعدد بین الاقوامی اقدامات ناکام رہے ہیں۔

اس عرصے کے دوران میں ملیشیا گروپ امیر اور طاقتور ہو گئے ہیں، خاص طور پر طرابلس اور ملک کے مغرب میں بہت سے گروہ اغوا کی وارداتوں میں ملوث ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ ملک کی منافع بخش انسانی اسمگلنگ کی تجارت سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

444 بریگیڈ اور اسپیشل ڈیٹرنس فورس طرابلس میں کام کرنے والی دو سب سے بڑی ملیشیائیں ہیں۔ یہ دونوں اس سے قبل بھی الدبیبہ کے اہم حامی رہ چکے ہیں اور مئی 2022 میں مشرق سے ملک کے ایک سابق حریف وزیر اعظم کی جانب سے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے فوج میں شامل ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں