افغانستان: خواتین کے کٹے سر اور لاشیں ندیوں میں پھینک دی گئیں

عورتوں اور فوج کے سابق اہلکاروں کے قتل کے واقعات بڑھ گئے، سرعام کوڑے مارنے اور پھانسی کی سزائیں لوٹ آئیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان کے حوالے سے ایک نئی پریشان کن رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی حکومت کے تحت خواتین کے سر قلم کیے جانے اور ان کی لاشوں کو ندیوں اور گلیوں میں پھینکے جانے کے واقعات کا انکشاف ہوا ہے۔

تنظیم ’’ افغان وِٹنیس‘‘ یا ’’ افغان گواہ‘‘ کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دو سال قبل اگست میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے افغانستان میں انسانی حقوق کی 3 ہزار 329 مبینہ خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

کھلے ذرائع سے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے محققین نے گزشتہ سال جنوری سے اب تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ایک ہزار 977 الزامات کو رپورٹ کیا ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں قتل، حراست اور تشدد کے واقعات شامل ہیں۔

اس تحقیق میں طالبان کے ہاتھوں خواتین کے تشدد سے مارے جانے کی سیکڑوں رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خواتین کے قتل کے واقعات میں "بتدریج اضافہ" ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 2022 سے تنظیم ’’ افغان گواہ‘‘ نے خواتین کو انفرادی طور پر قتل کیے جانے کی رپورٹیں درج کی ہیں۔ ماری جانے والی ان خواتین میں سے اکثر کو تشدد اور بربریت کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔

محققین نے بتایا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال جنوری سے اس سال جولائی کے درمیان ملک بھر میں ایسے ہی 188 کیسز ریکارڈ کیے اور ان رپورٹس میں ایسی خواتین کے کیسز بھی شامل ہیں جن کا سر قلم کیا گیا یا گولی مار دی گئی اور ساتھ ہی چھری کے وار بھی کئے گئے۔ تنظیم کے مطابق ان کی لاشوں کو اکثر ندیوں یا گلیوں میں پھینک دیا جاتا تھا ۔ بعض اوقات ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ ان کو تشدد کرکے یا سانس بند کرکے مارا گیا ہے۔

’’افغان وٹنس‘‘ پراجیکٹ کے ڈیوڈ اوسبورن نے کہا کہ طالبان انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سمیت متعدد وعدوں سے مکر گئے ہیں۔ حکام اور سکیورٹی اہلکاروں کو عام معافی دینے کے متعلق بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے خواتین کےخ قتل کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کوڑے مارنے اور سرعام پھانسیوں کو دوبارہ متعارف کرا دیا گیا ہے۔ سابق سیکورٹی اور مسلح افواج کے اہلکارں کی ہلاکتوں اور گرفتار کیے جانے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔ سول سوسائٹی، میڈیا اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں پر جبر مسلط کیا جارہا ہے۔

ماہرین کے مطابق رپورٹ کئے گئے تمام کیسز کی تصدیق کرنا ناممکن تھا تاہم بڑی تعداد میں افغانوں کی رپورٹوں نے طالبان اور دیگر کی طرف سے انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی ہے۔

اوسبورن نے مزید کہا کہ خطرات کے باوجود بہت سی خواتین نے احتجاج جاری رکھا ہے۔ لیکن ان آوازوں اور مجموعی طور پر افغانستان میں سول سوسائٹی کی آوازوں سے طالبان حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی دکھائی دی۔

اس تناظر میں محققین نے طالبان کی سپریم کورٹ کے جاری کردہ 56 حکم ناموں کو بھی ریکارڈ کیا ہے۔ ان حکم ناموں میں 350 سے زائد افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان سزاؤں میں بنیادی طور پر زنا، ہم جنس پرستی اور غیر قانونی تعلقات سے منسلک مبینہ اخلاقی جرائم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پہلی عوامی جسمانی سزا کا نفاذ اکتوبر 2022 میں کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں