بحیرۂ اسود میں مال بردار جہاز پر حملے کے بعد ترکیہ کا روس کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ بحیرہ اسود میں مزید کشیدگی سے گریز کرے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن کے دفتر نے گذشتہ ہفتے روسی بحریہ کے ترک ملکیتی مال بردار بحری جہاز پرحملے کے بعد جمعرات کو ایک بیان جاری کیا ہے۔

ترک صدر نے واقعے پر کئی روز کی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ روسی اہلکاروں کی جہاز میں مداخلت کے بعد روسی فیڈریشن میں ہمارے مذاکرات کاروں نے مناسب طور پر متنبہ کیا تھا کہ ایسی کوششوں سے گریزکیا جائے جن سے بحیرہ اسود میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہو۔

ترک ملکیتی جہازسکروعکان گذشتہ اتوار کو روسی بحریہ کی انتباہی فائرنگ کی زد میں آیا تھا۔اس وقت اس پر پلاؤ کا پرچم لہرا رہا تھا۔اس کے بعد روسی فوجی اہلکار معائنے کے لیے ہیلی کاپٹر سے اس جہاز پر سوار ہوگئے تھے اور معائنے کے بعد اسے یوکرین کی بندرگاہ ازمیل کی طرف جانے دیا گیا تھا۔یہ یوکرین کی زرعی اجناس کی برآمد کا اہم راستہ ہے۔

یہ واقعہ بحیرہ اسود میں کشیدگی میں اضافے کے دوران میں پیش آیا ہے۔روس نے گذشتہ ماہ یوکرین کے ساتھ تاریخی اناج معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا۔ترکیہ نے ماسکو اور کِیف دونوں کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ معاہدے میں ثالثی کی تھی تاکہ جنگ کے دوران میں فریقین کے درمیان واحد بڑے معاہدے کو طے کرنے میں مدد مل سکے۔

تاہم روسی حملے کے بارے میں کچھ نہ کہنے پر صدر ایردوآن کے دفتر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔دفتر نے جمعرات کے روز اپنے ناقدین کے خلاف یہ دلیل دی ہے کہ اس واقعے کا جواب دینا تکنیکی طور پر پلاؤ کی ذمے داری ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر سکروعکان جہاز کا مالک ترکیہ سے تعلق رکھتا ہے تو بھی جہاز پر ترکیہ کا جھنڈا نہیں تھا۔بین الاقوامی قانون میں یہ 'فلیگ اسٹیٹ' ہے جو جہاز کے نام یا اس کی ذاتی شخصیت سے زیادہ اہم ہے۔

پلاؤ بحرالکاہل کا ایک جزیرہ نما چھوٹا سا ملک ہے۔اس کا جھنڈا جہاز راں کمپنیاں اکثر بین الاقوامی بندرگاہوں تک آزادانہ رسائی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں