وزیر اعظم کے بیٹے کو قتل کرنے کی سازش، دو بنگلہ دیشی صحافیوں کو سزا سنا دی گئی

بنگلہ دیشی اخبار کے دو بزرگ ایڈیٹروں کو غیر حاضری میں سزا سنائی گئی، اپوزیشن کی حمایت کرنے پر ایسا کیا گیا: حامیوں کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بنگلہ دیش میں وزیر اعظم کے بیٹے کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں دو بزرگ صحافیوں کو سزا سنا دی گئی۔ جمعرات کو یہ سزا دونوں کی غیر حاضری میں سنائی گئی۔ صحافیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ملک کی اپوزیشن کی حمایت کرنے پر سزا دی گئی ہے۔

88 سالہ شفیق رحمان اور 70 سالہ محمود رحمان کو تین دیگر افراد کے ساتھ سزا سنائی گئی۔ حکام کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ کے سب سے بڑے بچے کو اغوا اور قتل کرنے کی ناکام سازش اس وقت کی گئی جب وہ ایک دہائی قبل امریکہ میں مقیم تھے۔ پراسیکیوٹر عبدالرحمن خان کازل نے بتایا کہ پانچوں کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔

شفیق رحمان نے ملک کے دو مقبول بنگالی ہفتہ واروں کی ایڈیٹنگ کی اور بعد میں 2016 میں اپنی گرفتاری سے قبل حزب اختلاف کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے مشیر بن گئے۔

شفیق رحمان کو حسینہ واجد کی حکمران عوامی لیگ کے ایک نمایاں نقاد کے طور پر جانا جاتا تھا۔ انہیں 2013 میں گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں دونوں افراد کو بیرون ملک علاج کرانے کے لیے ضمانت دے دی گئی اور وہ واپس نہیں آئے۔ دونوں صحافیوں کے دوست اور حامیوں کا کہنا ہے کہ دونوں بے گناہ ہیں۔ دیگر تین ملزمان سازش کے الزامات عائد ہونے کے بعد سے مفرور ہیں اور انہیں بھی غیر حاضری میں سزا سنائی گئی۔

واضح رہے وزیر اعظم کے بیٹے 52 سالہ سجیب وازد اب اپنی والدہ کی حکومت میں ایک سینئر ایڈوائزری کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپوں اور امریکہ سمیت غیر ملکی حکومتوں نے حسینہ کی حکومت کی جانب سے تنقید کو خاموش کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مرتب کردہ 2022 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں بنگلہ دیش کو روس اور افغانستان سے نیچے 162 نمبر پر رکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں