اُبھرتی ہوئی معیشتوں کا ڈالر کی بالادستی ختم کرنے پرزور،متبادل کرنسی کے بارے میں شکوک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں کنگزلے اوڈاف کی ملبوسات کی دکان پر کاروبار ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے انھیں تین ملازمین کو مجبوراً فارغ خطی دینا پڑی ہے۔

ان کی پریشانیوں کا ایک بڑا سبب نائجیریا کی کرنسی نیرا کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے۔اس نے ملبوسات اور دیگرغیر ملکی اشیاء کی قیمتوں کو مقامی صارفین کی پہنچ سے باہر کردیا ہے۔ درآمد شدہ کپڑوں کے ایک بیگ کی قیمت دو سال پہلے کے مقابلے میں تین گُنا زیادہ ہوچکی ہے۔ ان دنوں قیمت قریباً 350،000 نیرا یا 450 ڈالر کے آس پاس چل ہے۔

اوڈاف کا کہنا تھا کہ ’’اب کوئی فروخت نہیں کیونکہ لوگوں کو کپڑے خریدنے کے بارے میں سوچنے سے پہلے کھانا پڑتا ہے‘‘۔ترقی پذیر دنیا میں، بہت سے ممالک عالمی مالیاتی نظام پر امریکا کے غلبے سے تنگ آ چکے ہیں۔خاص طور پر ڈالر کی طاقت۔

وہ اگلے ہفتے اپنی شکایات کا اظہار کریں گے جب برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا کا برکس بلاک جوہانسبرگ میں اجلاس منعقد کرے گا۔ اس میں دیگر اُبھرتی ہوئی مارکیٹوں کے ممالک بھی شریک ہوں گے۔

لیکن ’کنگ ڈالر‘ کو گرفت میں لانا اصل میں عالمی کرنسی کو ختم کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ڈالر اب تک عالمی کاروبار میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسی ہے اور یہ ماضی میں بھی چیلنجوں نبردآزما ہوچکا ہے۔

برکس ممالک کی جانب سے اپنی کرنسی جاری کرنے کی بار بار بات چیت کے باوجود منگل سے شروع ہونے والے سربراہ اجلاس سے قبل کوئی ٹھوس تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم ابھرتی ہوئی معیشتوں نے اپنی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے تاکہ ان کا انحصار کم کیا جا سکے۔

جون میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جنوبی افریقا کے نلیدی پانڈور نے کہا تھا کہ بلاک کا نیا ترقیاتی بینک 'موجودہ بین الاقوامی سطح پر تجارت کی جانے والی کرنسیوں' کے متبادل تلاش کرے گا۔ پانڈور روس کے سرگئی لافروف اور چین کے ما ژاؤسو کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔یہ دونوں ممالک خاص طور پر امریکا کے بین الاقوامی مالیاتی اثرورسوخ کو کمزور کرنے کے خواہاں ہیں۔

برکس گروپ کی تاریخ 2009 سے شروع ہوتی ہے۔اصل میں، یہ صرف بی آر آئی سی تھا ،ایک اصطلاح جو گولڈ مین ساکس کے ماہر معاشیات جم اونیل نے برازیل ، روس ، بھارت اور چین کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے استعمال کی تھی۔ جنوبی افریقا نے 2010 میں اس میں شمولیت اختیار کی اور نام میں "ایس" کا اضافہ کیا۔ سعودی عرب، ایران اور وینزویلا سمیت 20 سے زیادہ ممالک نے برکس میں شمولیت میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

2015 ء میں برکس ممالک نے نیو ڈیولپمنٹ بینک کا آغاز کیا جو امریکا اور یورپی غلبے والے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کا متبادل ہے۔یوگنڈا کے ایک سیاسی کارکن مارٹن سیمپا نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک مغربی غلبے کی گرفت کو ڈھیلا کرنے اور ایک نئے عالمی نظام کے دروازے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں مشرق زیادہ نہیں تو مساوی اثرورسوخ کا حکم دے گا۔

ترقی پذیر دنیا کے ناقدین خاص طور پر امریکا کی جانب سے دشمنوں کے خلاف مالیاتی پابندیاں عاید کرنے کے لیے ڈالر کے عالمی اثرورسوخ کو استعمال کرنے کی خواہش کے بارے میں بے چینی کا شکار ہیں جیسا کہ اس نے گذشتہ سال یوکرین پر حملے کے بعد روس کے ساتھ کیا تھا۔

وہ یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ ڈالر میں اتارچڑھاؤ ان کی معیشتوں کو غیرمستحکم کر سکتا ہے۔ مثال کے طورپر ڈالر میں اضافہ دوسرے ممالک سے سرمایہ کاری حاصل کرکے بیرون ملک افراتفری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے ڈالر میں دیے گئے قرضوں کی ادائی اور درآمدی مصنوعات خریدنے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے،جن کی قیمت اکثر ڈالر میں ہوتی ہے۔

کینیا کے صدر ولیم روٹو نے اس سال افریقا کے ڈالر پر انحصار اور اس کے نشیب وفراز سے پیدا ہونے والے معاشی نقصانات کے بارے میں شکایت کی ہے، جبکہ کینیا کے شلنگ کی قدر میں گراوٹ آئی ہے۔انھوں نے افریقی رہ نماؤں پرزور دیا ہے کہ وہ ایک نئے پان افریقاادائی نظام میں شامل ہوں جو زیادہ تجارت کی حوصلہ افزائی کے لیے مقامی کرنسیوں کا استعمال کرتا ہے۔

جیبوتی اور کینیا کے درمیان تجارت میں امریکی ڈالر کس طرح شامل ہے؟ کیوں؟انھوں نے تالیاں بجاتے ہوئے ایک میٹنگ میں پوچھا۔

برازیل کے صدر لوئیز اناسیو ڈی سلوا نے جنوبی امریکی بلاک مرکوسر کے اندر تجارت اور برکس ممالک کے درمیان تجارت کے لیے ایک مشترکہ کرنسی کی حمایت کی ہے۔

برازیل کو چین یا ارجنٹائن کے ساتھ تجارت کے لیے ڈالر کی ضرورت کیوں ہے؟ ہم اپنی کرنسی میں تجارت کر سکتے ہیں۔انھوں نے اس ماہ صحافیوں کو بتایا تھا۔لیکن اگر ڈالر کی خامیاں آسانی سے واضح ہیں تو، اس کے متبادل نہیں ہیں۔

پریٹوریا یونیورسٹی کے سینیر ریسرچ فیلو اور بین الاقوامی مالیات میں مہارت رکھنے والے وکیل ڈینیئل بریڈلو کا کہنا ہے کہ ’’آخرمیں، اگر آپ زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اسے ڈالر میں رکھنا ہوگا۔آپ کو قرض لینے کی ضرورت ہوگی تو وہ ڈالر میں لینا ہوگا لیکن اگر کوئی متبادل ہوتا، تو لوگ اس کا استعمال کرتے‘‘۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے محققین کے اعدادوشمار کے مطابق، 1999 سے 2019 تک امریکا میں 96 فی صد تجارت ڈالر میں ہوئی، ایشیا میں 74 فی صد اور یورپ سے باہر ہر جگہ 79 فی صد تجارت ہوئی۔اس کے باوجود، حالیہ برسوں میں عالمی تجارت پر ڈالر کی گرفت کسی حد تک ڈھیلی ہوئی ہے کیونکہ بینکوں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں نے یورو اور چین کے یوآن کا رُخ کیا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات جیفری فرینکل نے گذشتہ ماہ ایک تحقیق میں کہا تھا کہ یورو متعارف کرائے جانے کے 24 سال بعد بھی دنیا کی نمبر 2 کرنسی بین الاقوامی کرنسیوں کے لیے ڈالر کا مقابلہ نہیں کرتی اور یوآن کا استعمال بیجنگ کی جانب سے اپنی کرنسی میں عالمی منڈیوں میں آزادانہ طور پر تجارت سے انکار کی وجہ سے محدود ہے۔

ٹفٹس یونیورسٹی کے فلیچر اسکول آف گلوبل افیئرز کی سینیر فیلو میہیلا پاپا کا کہنا ہے کہ ’’ڈالر کا کوئی بھی متبادل غلبے کی سطح تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوا۔اب راتوں رات آپ کے پاس ایک نئی برکس کرنسی ہوگی جو ایک بڑی ہلچل کا سبب بنے گی- اس میں وقت لگتا ہے، اس میں اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ایک طویل راستہ ہوگا‘‘۔

ڈالر کے اب بھی بہت حامی موجود ہیں۔ارجنٹائن میں اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں پیر کے روز پرائمری ووٹنگ کے بعد صدارتی امیدوار کے طور پر اُبھرنے والے جیویئر ملی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے بحران زدہ پیسو کی جگہ ڈالر کو استعمال کیا جائے۔زمبابوے میں 2008 میں افراط زر کی وجہ سے لومور متینہا کی شراب کی دکان منہدم ہو گئی تھی۔ وہ صرف اس وقت کاروبار کو بحال کرنے میں کامیاب رہے جب ملک نے غالب کرنسی ڈالر کے لیے مقامی کرنسی کو چھوڑ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر نے ہمیں ہماری زندگی واپس دے دی ہے۔

2019 میں ، حکومت نے زمبابوے کی کرنسی کو دوبارہ متعارف کرایا اور غیر ملکی کرنسیوں میں مقامی لین دین پر پابندی عاید کردی۔لیکن زمبابوے میں ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ بلیک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی تجارت ہوتی رہی اور حکومت نے پابندی اٹھا لی۔ اب ملک میں 80 فی صد لی دین امریکی ڈالر میں ہوتی ہیں۔

وزیر خزانہ متھولی نکوبے اکثر لوگوں سے مقامی کرنسی کو اپنانے کی درخواست کرتے ہیں لیکن سرکاری ملازمین کو بھی امریکی ڈالر میں ادائی کی جاتی ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ تقریبا تمام خدمات مہیا کرنے والے صرف گرین بیک کو قبول کرتے ہیں۔

ہرارے کے ایک معاشی تجزیہ کار پراسپر چتمبرا نے کہا کہ امریکی ڈالر کا ہمیشہ مستحکم اثر رہا ہے۔ لیکن زمبابوے کی معیشت، جس میں بہت کم صنعت، کم سرمایہ کاری، کم برآمدات اور اعلیٰ قرضے ہیں، روزمرہ تجارت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ڈالر کو راغب نہیں کرسکتی ہے۔اس کی وجہ سے دارالحکومت کی سڑکوں پر ایک خاص کاروبار شروع ہو گیا ہے: دکاندار ایک ڈالر کے پرانے یا کٹے ہوئے نوٹوں کو تھوڑی سی فیس کے عوض ٹھیک کر دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں