جنسی جرائم کے الزامات بے بنیاد ہیں، تحقیقات کے لیے تیار ہیں: سریع الحرکت فورس سوڈان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں سرکاری فوج کے خلاف لڑنے والی ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘[آر ایس ایف] کے کمانڈر کے مشاورتی دفتر کے ایک رکن ابراہیم مخیر نے اس بات کی تردید کی کہ فورسز نے جنسی تشدد کے کسی بھی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے رپورٹ ہونے والے واقعات کو محض "الزامات‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

مُخیر نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "ہم تحقیقات اور مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس کا بہترین ثبوت ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر کی اقوام متحدہ کے حکام کے ساتھ گفتگو ہے۔ انہوں نے جنسی تشدد کے حربوں کی تحقیقات کے لیے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ نے "آر ایس ایف پر الزام نہیں لگایا، بلکہ کہا کہ الزامات ہیں۔ اس لیے بغیر ثبوت اور تفتیش کے فریقین کو مجرم ثابت کرنے کے بغیر الزام نہیں لگایا جا سکتا"۔

"خلاف ورزیوں کی روک تھام کی ذمہ دار کمیٹی"

انہوں نے کہا کہ "ریپڈ سپورٹ فورسز نے منفی مظاہر اور خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں ہر ایک معاون عناصر کے لیے فیلڈ ٹرائلز کیے گئے جو کسی بھی زیادتی کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "دو روز قبل صدارتی اور انسانی امداد کی ایجنسی کے قیام کا فیصلہ جاری کیا گیا تھا تاکہ مبصرین اور صحافیوں کے لیے دروازے کھولے جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں کیا ہو رہا ہے۔"

"ریپ اور جبری گمشدگی"

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو ایک بیان میں انکشاف کیا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے ان رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں "ریپڈ سپورٹ فورسز کی طرف سے جنسی تشدد کے وحشیانہ اور وسیع استعمال" کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے۔

کمیشن نے مزید کہا کہ رپورٹس کے مطابق "خواتین اور لڑکیوں کو جبری گمشدگی اور جبری مشقت اور جنسی استحصال کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں