’’ترکیہ کا کیا عمل دخل ہے ؟‘‘ لیبیا کی بندرگاہ خمس سے متعلق غصہ کا طوفان برپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا اس وقت پہلے ہی دو حکومتوں کے درمیان منقسم ہے۔ اسی بنا پر بندرگاہوں اور خارجہ تعلقات کے حوالے سے ملک میں آئے روز تنازعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس مرتبہ تنازع لیبیا کی سب سے بڑی بندرگاہ سے متعلق پیدا ہوگیا۔ یہ بندرگاہ ’’خمس‘‘ ہے۔

بندرگاہ ’’خمس‘‘ سے متغلق گزشتہ دنوں ایک افواہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ طرابلس میں حکومت نے اس بندرگاہ کو بیچ دیا ہے یا اسے ترکیہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اس بندرگاہ میں ترکیہ کی افواج موجود ہیں۔

عبد الحمید الدبیبہ کی حکومت نے کل شام تک اس بندرگاہ کو غیر ملکی افواج کے استعمال کے لیے مختص کرنے کی تردید کی تھی۔ حکومتی ترجمان محمد حمودہ نے بحریہ کے چیفس آف سٹاف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی جانب سے بندرگاہ "خمس‘‘ کو غیر ملکی فوجی اڈوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

محمد حمودہ نے شہریوں کو عوامی مفادات سے متعلق امور میں مداخلت کے خلاف خبردار بھی کیا اور کہا اس قسم کی افواہیں پھیلانے سے قانونی جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہ کو ترقی دینے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جس کا مقصد دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور تجارتی تبادلے کو بڑھانا ہے۔

دوسری طرف ترکیہ کے ایک سفارتی ذریعے نے جمعہ کے روز خبر ایجنسی "TASS" سے بات چیت میں اس بات کی تردید کردی کہ انقرہ نے فوجی اڈہ قائم کرنے کے مقصد سے "خمس" کو لیز پر حاصل کیا ہے۔ واضح رہے کہ ترک ذرائع نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ انقرہ نے یہ بندرگاہ 99 سال کی مدت کے لیے لیز پر لی ہے۔ یہاں ایک فوجی اڈہ قائم کیا جائے گا اور فضائی دفاعی نظام تعینات کیا جائے گا۔

طرابلس سے 120 کلومیٹر مشرق میں واقع ساحلی شہر ’’ خمس‘‘ سے متعلق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی یہاں سینکڑوں افراد نے سڑکیں بند کردی تھیں اور سول نافرمانی کی دھمکی دی تھی۔ مظاہرین نے بندرگاہ بھی بند کردی تھی۔

مظاہرین اس لیے سڑکوں پر نکلے تھے کہ ان کا خیال تھا کہ حکومت بندرگاہ کا کچھ حصہ ترکیہ کو فوجی مقاصد کے لیے دینے پر غور کر رہی ہے۔ خیال رہے بندرگاہ ’’ خمس‘‘ کو ملک کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ لیبیا کے شمال مغرب میں واقع اس بندرگاہ کو اس کی گہرائی اور اس کی برتھوں کی لمبائی کے لحاظ سے سٹریٹجک اہمیت بھی حاصل ہے۔ اس کے رقبے کا تخمینہ 249 ہیکٹر لگایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں