بھارت میں کم بارش کے بعد افراطِ زر پرقابوکے لیے پیاز پر40 فی صد نئی برآمدی ڈیوٹی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت نے فوری طور پر پیاز پر 40 فی صد ایکسپورٹ ڈیوٹی عاید کردی ہے۔ امارات نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق اضافی ڈیوٹی رواں سال 31 دسمبر تک نافذ العمل رہے گی۔

بھارت دنیا میں پیاز کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اور متحدہ عرب امارات ، بنگلہ دیش، نیپال، ملائیشیا اور سری لنکا ہندوستانی پیاز کی سب سے بڑی منڈیاں ہیں۔برآمدات پر نئی پابندی بھارت میں پیاز پیدا کرنے والی ریاستوں میں رواں ماہ ایک صدی میں سب سے کم بارش کے سبب لگائی گئی ہے، جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں پیاز کی قلّت پیدا ہو رہی ہے۔

اگست بھارت میں پیاز کی فصل سمیٹنے کے عروج کا موسم ہے۔ پاکستان، چین اور مصر پیاز کے دیگر عالمی برآمد کنندگان میں شامل ہیں۔

بھارت کی وزارت خزانہ نے سبزیوں اور دیگر اشیائے خور ونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے خوردہ افراط زر پر قابوپانے کے لیے نئی ایکسپورٹ ڈیوٹی عاید کی ہے۔وزارت خوراک کے اعدادو شمار کے مطابق جمعہ کو دارالحکومت دہلی میں پیاز کی خوردہ قیمت 35 روپے (42 سینٹ) فی کلو گرام تھی۔یہ یکم جنوری سے قریباً 17 فی صد زیادہ ہے۔اس دن قومی قیمت اوسطاً 30.5 روپے فی کلوگرام تھی۔

بھارت کی جانب سے کھانے پینے کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظرخوردہ افراط زر پر قابو پانے کی یہ دوسری حالیہ کوشش ہے۔گذشتہ ماہ بھارت نے غیر باسمتی سفید چاول پر پابندی عاید کر دی تھی۔ بھارت دنیا بھر میں برآمد ہونے والے چاول کی اس قسم کا قریباً 40 فی صد پیدا کرتا ہے۔

حکومت کی جانب عاید کردہ نئی درآمدی ڈیوٹی سے نئی دہلی کو اس سال کے آخر میں ہونے والے اہم ریاستی انتخابات سے قبل مقامی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی لیکن اس سے ایشیائی خریداروں کو زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا کیونکہ دیگرعلاقائی برآمد کنندگان کے پاس سپلائی محدود ہے۔

ممبئی میں مقیم ایک برآمد کنندہ اجیت شاہ نے کہا:’’ایکسپورٹ ڈیوٹی سے بھارتی پیاز پاکستان، چین اور مصر کے پیاز سے زیادہ مہنگی ہو جائے گی۔اس سے قدرتی طور پر برآمدات میں کمی آئے گی اور مقامی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔

سبزی کی اہم منڈیوں میں پیاز کی اوسط تھوک قیمت میں جولائی سے اگست کے درمیان قریبا 20 فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ بڑھ کر 2400 روپے (28.87 ڈالر) فی 100 کلو گرام ہوگئی ہے۔

’’گرمیوں کے مہینوں میں کاٹی گئی پیاز تیزی سے گل سڑ رہی ہے، اور نئی سپلائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس صورت حال نے حکومت کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے‘‘۔ممبئی میں مقیم ایک اور برآمد کنندہ نے کہا۔

2023ء کی پہلی شش ماہی میں بھارت کی پیاز کی برآمدات ایک سال پہلے کے مقابلے میں 63 فی صد بڑھ کر 1.46 ملین میٹرک ٹن ہوگئی تھیں۔بنگلہ دیش، نیپال، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور سری لنکا جیسے ممالک ہندوستانی پیاز کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔

پیاز کو ایشیا بھر میں روایتی پکوانوں میں بنیادی شے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور سالن سے مسالے والے چاولوں جیسے پاکستان اور بھارت میں بریانی اور پلاؤ میں اسی کا تڑکا لگایا جاتاہے، ملائیشیا میں بیلکن،اور بنگلہ دیش میں مچھلی کا سالن پیاز کے ساتھ ہی بنایا جاتا ہے۔

جولائی میں بھارت کا سالانہ خوردہ افراطِ زر 15 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا کیونکہ سبزیوں اور اناج کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں ، جس سے حکومت پر قیمتوں کو کم کرنے کے لیے کارروائی کا دباؤ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں