یوکرین میں مغربی ملکوں کی شکست ناگزیر، وہ مذاکرات کی بھیک مانگیں گے: ماسکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین میں مغربی ملکوں کی شکست "ناگزیر" ہے۔ وہ مذاکرات کی بھیک مانگیں گے۔ روسی ایجنسی ’’Sputnik‘‘ نے میدویدیف کے حوالے سے کہا کہ مغرب کیف کی حمایت اس حد جاری نہیں رکھے گا کہ اس کے مفادات کو نقصان پہنچے

میدویدیف نے مزید کہا کہ اس میں کچھ وقت لگے گا اور مغربی حکام بدل جائیں گے۔ ان کے اشرافیہ تھک جائیں گے اور یوکرین پر مذاکرات اور تنازع کو روک دینے کی بھیک مانگیں گے۔ سابق روسی صدر جو پوتین کے بہت قریب جانے جاتے ہیں نے روسی حملے کے ذریعے کیف میں حکومت کے مکمل خاتمے کی ضرورت کا اشارہ دیا تھا۔

یوکرین کے جوابی حملے کے بارے میں موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئےمیدویدیف نے کہا کہ ہمیں دشمن کو روکنا چاہیے اور پھر جارحانہ کارروائی شروع کرنی چاہیے۔ آج روسی حملے کا مقصد صرف ہماری زمینوں کی آزادی اور اپنے لوگوں کا تحفظ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا مقصد کیف میں نازی حکومت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ کیف ریاست 404 میں شامل تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ روسی فوج کو ہوا بازی میں، بکتر بند افواج میں، اعلیٰ درستی کے ہتھیاروں میں اور حوصلے کے اعتبار سے بھی برتری حاصل ہے۔ واضح رہے روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ فروری 2022 سے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں