افغانستان وطالبان

کیا طالبان کی حکومت میں ‘اغلام بازی‘ کی مکروہ رویات برقرار ہے؟

طالبان کمانڈر کے بچے کے ساتھ شرمناک تعلق کی ویڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"افغانستان انٹرنیشنل" کی طرف سے شائع کردہ کلپ میں اتوار کے روز سوشل میڈیا پرہنگامہ برپا کردیا۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر افغانستان میں طالبان کے ایک رہ نما کے ایک لڑکے کے ساتھ " شرمناک" تعلقات کی عکس بندی کی گئی ہے۔ یہ ویڈیو العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم کو موصل ہوئی ہے مگر غیراخلاقی مناظر کی وجہ سے اسے نشر نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ ویڈیو ایران انٹرنیشنل کے ’ایکس‘ پلیٹ فارم کے آفیشل اکاؤنٹ پرموجود ہے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کلپ کیسے فلمایا گیا اور اسے سوشل میڈیا پر کیسے لیک کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ رسوا کن رواج افغانستان میں پھیل رہا ہے اور کئی بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اسے "اغلام بازی" کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا مطلب دری میں ہے "لڑکوں کے ساتھ لہو لعب"۔ ہے۔ یہ ایک مقامی روایت اور عمل جس میں امیر یا طاقتور مرد تفریح کے لیے لڑکوں کا استحصال کرتے ہیں۔ خاص طور پر رقص اور جنسی سرگرمیوں میں بچوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

طالبان
طالبان

مبصرین کا خیال ہے کہ لڑکے کو تفریح اور خوشی کے لیے گڑیا کی طرح رکھنے کی یہ عادت قدامت پسند ملک میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی ایک پچھلی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بعض اوقات لڑکوں کو ان کے غریب خاندانی پس منظر کی وجہ سے اغوا کر لیا جاتا ہے یا ان کے مستحقین کو بیچ دیا جاتا ہے۔

سنہ 2014 کی ایک رپورٹ میں افغانستان میں انسانی حقوق کے دفاع کے لیے آزاد کمیشن نے توجہ دلائی تھی کہ "متاثرین کو باقاعدگی سے ریپ کیا جاتا ہے اور وہ اکثر شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہوتے ہیں"۔ اس نے مزید کہا کہ وہ "نفسیاتی دباؤ، خود اعتمادی کی کمی اور مایوسی کی علامات" کا شکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بچہ بازی" کا رجحان "بچوں میں خوف کے ساتھ ساتھ انتقام اور جارحیت کے جذبات کو جنم دیتا ہے۔"

طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے شراب پینے اور بچہ بازی کی "برائیوں" کو ختم کردیا ہے لیکن سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ویڈیو اس شرمناک روایت کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے۔

2021 میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی نے بڑے معاشی اور انسانی بحرانوں کو جنم دیا اور خاص طور پر خواتین اور چھوٹے بچوں کو ان مسائل کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں