شمالی میکسیکو میں تباہ کن اثرات چھوڑنے کے بعد سمندری طوفان ہلیری کیلیفورنیا پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

میکسیکو کے جزیرہ نما باجا کیلیفورنیا میں شدید بارشوں سے تباہی پھیلانے کے بعد سمندری طوفان ہلیری کی اتوار کے روز کیلیفورنیا میں تاریخی آمد ہوئی جس کے لیے موسمیاتی ماہرین نے ممکنہ تباہ کن سیلاب سے خبردار کیا تھا۔

میکسیکو کے جزیرہ نما میں طوفانی سیلاب کی اطلاعات کے درمیان ایک شخص کی موت واقع ہو گئی اور کچھ سڑکیں بہہ گئیں۔ سوشل میڈیا پر تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدید بارشوں سے شہر کی سڑکوں پر پانی کا سیلاب آ گیا جو ندیوں میں تبدیل ہو گیا۔

کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے جنوبی کیلیفورنیا کے بیشتر علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں زیادہ تر خشک رہنے والے خطے میں (بھی) سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

سان ڈیاگو، لاس ویگاس اور لاس اینجلس میں سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں اور پیشہ ورانہ کھیلوں کے مقابلوں کی تاریخیں تبدیل کر دیا گئیں۔ لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ اور سان ڈیاگو یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ نے پیر کے لیے کلاسز منسوخ کردیں۔

میکسیکو کی سرحد کے بالکل شمال میں واقع سان ڈیاگو کاؤنٹی نے اپنے پہلے ریکارڈ شدہ سمندری طوفان کے لیے تیاری کر لی ہے۔ پورے جنوبی کیلیفورنیا میں کچھ صحرائی اور پہاڑی علاقوں میں صرف ایک دن میں سال بھر کے برابر بارش ہو سکتی ہے۔ کچھ علاقوں میں طوفان کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

سیلابی پانی دریائے لاس اینجلس کے پتھریلے کناروں سے بہہ نکلا جو عام طور پر بمشکل ایک قطرہ ہی روک سکتے ہیں۔ سان ڈیاگو کے مشرق میں تقریباً 90 میل (145 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع صحرائی قصبے اوکوٹیلو میں انٹراسٹیٹ 8 پر چٹانی پتھر آ گرے جس کی وجہ سے ایریزونا جانے والی ہائی وے پر ٹریفک تاخیر کا شکار ہو گئی۔

ہلیری سان ڈیاگو کاؤنٹی سے ٹکرانے والا اب تک کا پہلا ریکارڈ شدہ طاقتور سمندری طوفان ہوگا اور یہ واقعہ طوفان جنوبی کیلیفورنیا کے لیے انتہائی نایاب ہے۔ 1997 میں مشرق میں امپیریل کاؤنٹی کا ایک دور دراز حصہ نورا طوفان کا نشانہ بنا اور طوفانوں کو نام دینے سے پہلے 1939 میں ایک اور طوفان لاس اینجلس کاؤنٹی میں لانگ بیچ کے شمال میں ساحل سے ٹکرایا تھا۔

موسمیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں 5 سے 10 انچ (12 سے 25 سینٹی میٹر) بارش ہو سکتی ہے۔

سان ڈیاگو میں نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے ایک سینئر ماہر موسمیات الیکس ٹارڈی نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا، "صحرا میں کچھ جگہوں پر یہ ایک سال کے برابر ہے۔ جنوبی کیلیفورنیا اور سان ڈیاگو میں عام بارش اگست میں بالکل نہیں ہوتی۔ اس لیے یہاں ایک نہایت غیر معمولی واقعہ سامنے آرہا ہے۔

لاس اینجلس سے تقریباً 100 میل (160 کلومیٹر) مشرق میں ریورسائیڈ کاؤنٹی میں ایک صحرائی راستے پام اسپرنگس میں سڑکیں سیلاب سے بھر گئیں۔ 45,000 آبادی والے اس شہر میں عموماً پورے سال میں تقریباً 4.6 انچ بارش ہوتی ہے اور اس ایک طوفان سے 6-10 انچ بارش ہو سکتی ہے۔

کیلیفورنیا کے ڈیتھ ویلی علاقے میں جہاں ہر سال صرف 2.2 انچ بارش ہوتی ہے، اس واقعے سے 3-4 انچ بارش ہو سکتی ہے۔

طوفان کی تمام تیاریوں کے درمیان لاس اینجلس کے شمال مغرب میں تقریباً 80 میل (130 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع وینٹورا کاؤنٹی کے شہر اوجائی کو 5.1 شدت کے زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا۔ زخمیوں کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔

گذشتہ 48 گھنٹوں میں طوفان ہلیری کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے جو دن کے اوائل میں باجا کیلیفورنیا جزیرہ نما کے شمالی حصے سے پہلی بار ٹکرایا۔ نیشنل ویدر سروس (این ڈبلیو ایس) کے ماہرِ موسمیات زیک ٹیلر کے مطابق لیکن یہ امریکہ کے جنوب مغرب میں آنے والا اب تک کا سب سے زیادہ بڑا طوفان ہے۔

نیشنل ہریکین سینٹر (این ایچ سی) نے کہا کہ ہلیری 60 میل فی گھنٹہ (96 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے تیز ہوائیں لا رہا تھا اور جزیرہ نما کا شمالی حصہ اس کا مرکز تھا اور پھر اتوار کی سہ پہر کو اس کے جنوبی کیلیفورنیا کی طرف منتقل ہو جانے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

این ایچ سی نے مزید کہا کہ طوفان میں اضافہ – جس سے سمندری پانی ساحل کی طرف آ جاتا ہے - باجا کیلیفورنیا کے کچھ حصوں میں ساحلی سیلاب پیدا کر سکتا ہے اور طوفان شدید بارش لا رہا تھا جو کچھ علاقوں میں تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتی تھی۔ خطرناک سمندری جھاگ نے جنوبی کیلیفورنیا کے ساحلوں کو گھیر لیا۔

نیشنل ویدر سروس کی ماہر موسمیات لیزا فلپس نے شام 4:30 بجے (جی ایم ٹی 23:30) لاس اینجلس میں بریفنگ میں بتایا۔ "طوفان کا مرکز اس وقت میکسیکو کی سرحد کے بالکل شمال میں ہے۔"

ماہرِ موسمیات نے کہا کہ دوپہر دو بجے (21:00 جی ایم ٹی) تک ہلیری سان ڈیاگو کیلیفورنیا سے تقریباً 115 میل (185 کلومیٹر) جنوب-جنوب مشرق میں تھا۔ یہ 23 میل فی گھنٹہ (37 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے شمال-شمال مغرب کی طرف بڑھ رہا تھا۔

ملک کی فوج کے مطابق میکسیکو میں باجا کیلیفورنیا کے جزیرہ نما میں تقریباً 1,900 افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

باجا کیلیفورنیا جزیرہ نما کے مشرقی جانب ساحلی قصبے مولیج کے آس پاس ہفتے کے روز ایک شخص کی موت واقع ہو گئی جب ایک ندی کو عبور کرتے ہوئے اس کا خاندان بہہ گیا۔ میکسیکو کی فوج نے مزید کہا کہ روشنیوں کے کھمبے گرنے کے بعد اردگرد کے کئی دیہاتوں میں فون لائنیں اور بجلی منقطع ہوگئی۔

میکسیکو کی بحریہ نے بھی ہلیری طوفان کے راستے میں موجود پانچ جزیروں سے تقریباً 850 افراد کو نکالا جسے شدت کم ہونے سے پہلے کیٹیگری 4 کا سمندری طوفان قرار دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں