ایران

ایران کے نئے جدید ڈرون کی رونمائی،صدررئیسی کا ملک پر کسی بھی حملے کے خلاف انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے منگل کے روز اپنے جدید ترین مقامی ساختہ ڈرون کی رونمائی کی ہے جو زیادہ بلندی پر اور طویل عرصے تک پرواز کر سکتا ہے۔

ایران کی دفاعی صنعت کی کامیابیوں کے جشن کی تقریب میں ’’مہاجر-10‘‘ ڈرون متعارف کرایا گیا ہے۔اس تقریب میں صدر ابراہیم رئیسی بھی شریک تھے۔

نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے صدر رئیسی کے حوالے سے کہا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج ایران کے خلاف جارحیت میں ملوّث کسی بھی ہاتھ کو کاٹ دیں گی۔

یہ نیا ڈرون ’’مہاجر-6‘‘کا اپ گریڈ ورژن ہے۔امریکی حکام نے ایران پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ میں استعمال کے لیے روس کو یہ ڈرون فروخت کررہا ہے۔

مغربی حکومتوں نے حالیہ مہینوں میں روس کو مبیّنہ طورپراسلحہ کی فروخت پر ایران پر عاید پابندیوں میں توسیع کی ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق نیا ڈرون 7 ہزارمیٹر (23 ہزار فٹ) کی بلندی پر زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے اور اس کی آپریشنل رینج 2 ہزار کلومیٹر (1242 میل) ہے۔

یہ 210 کلومیٹر فی گھنٹا (130 میل فی گھنٹا) کی رفتارسے سفر کرسکتا ہے اور جدید ترین الیکٹرانک اورانٹیلی جنس سسٹم سے لیس ہے۔

ایرنا نے کہا کہ بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑی میں 300 کلوگرام (660 پاؤنڈ) تک سامان لے سکتا ہے۔ یہ گذشتہ ماڈل سے دُگنا سامان لے جانےکی صلاحیت کا حامل ہے اور’’ہر قسم کے بم اور گولہ بارود‘‘ لے جا سکتا ہے۔

یہ ’’مہاجر-6‘‘ کے وزن اور پرواز کے دورانیے کی صلاحیت سے دُگنا ہے جو 150 کلوگرام ہتھیار اٹھا سکتا ہے اور 12 گھنٹے تک پرواز کرسکتا ہے۔ گذشتہ ماڈل 5،400 میٹر کی اونچائی تک پرواز کرسکتا تھا اور اس کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹا تھی۔

اس سے قبل ایران کے کٹر دشمن امریکا اور اسرائیل نے الزام عاید کیا تھا کہ تہران خلیج میں امریکی افواج اور اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر ڈرون اور میزائل استعمال کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں