ایک بوسے نے سپین میں ہلچل مچا دی، فٹبال فیڈریشن کے صدر پر جنسی زیادتی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے صدر لوئیس روبیلیز نے 2023 کے فیفا ویمنز ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد کھلاڑی جینیفر ہرموسو کے ہونٹوں پر بوسہ لیا اور اس کے بعد سپین میں ان کے خلاف تنقید کی شدید لہر دوڑ گئی۔

سڈنی میں اتوار کو ہونے والے فائنل میں ہسپانوی قومی ٹیم نے انگلینڈ کو زیرو ایک سے شکست دے کر پہلی مرتبہ ویمنز ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا تاہم تاج پوشی کی تقریب سے قبل جشن کے مناظر کے بعد ردعمل نے حکومتی وزرا سمیت سپین میں بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

مساوات کی خاتون وزیر آئرین مونٹیرو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’X‘‘ پر کہا کہ یہ جنسی زیادتی کی ایک قسم ہے جس کا ہم خواتین ہر روز شکار ہوتی ہیں، ہمیں اسے معمول کی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔

ہسپانوی وزیر برائے سماجی حقوق آئیون پلارا نے بھی ’’ایکس‘‘ پر کہا کہ ہم سب سوچ رہے ہیں۔ اگر یہ عمل پورے سپین کے سامنے کیا گیا تو چھپ کر کیا ہو رہا ہے؟ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

45 سالہ روبیلیز نے ہسپانوی قومی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو گلے لگایا تھا لیکن اس نے ہرموسو کو گلے لگانے اور اس کے گال پر بوسہ دینے کے بعد بونٹوں پر بھی بوسہ دیا۔

ہرموسو نے فوراً بعد کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں آیا۔ لیکن بعد میں ہسپانوی فیڈریشن نے ہرموسو کی طرف سے ہسپانوی میڈیا کو ایک بیان بھیجا جس میں کھلاڑی کے لہجے اور ردعمل میں تبدیلی دکھائی گئی۔

ہرموسو نے بیان میں کہا ’’کہ ورلڈ کپ جیتنے کی بے پناہ خوشی کی روشنی میں یہ مکمل طور پر خودکار رد عمل تھا۔ یہ ایک شاندار رشتہ جو مجھے فیڈریشن کے صدر کے ساتھ باندھتا ہے۔ ہم سب کے ساتھ صدر کا برتاؤ مہربانی پر مبنی تھا۔ انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ پیار اور شکر گزاری کا فطری عمل تھا۔‘‘

فیڈریشن کے صدر روبیئلز نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں نے یقیناً غلطی کی ہے اور مجھے اسے تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ بغیر کسی برے ارادے کے تھا اور بڑی خوشی کے لمحے میں ہوا تھا۔ یہاں ہم اسے [یعنی بوسہ] کو معمول کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن باہر اس نے گڑبڑ کر دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں