برکس سربراہ اجلاس کا زرعی تجارت اور ایس ایم ایزکی ترقی کے ایجنڈے کے ساتھ آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں برکس سربراہ اجلاس 2023 کا آغاز منگل کے روز ایک کاروباری فورم کے ساتھ ہوا ہے۔برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا کے نمائندوں نے بلاک کے اندر زرعی تجارت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی اوراقتصادی تعاون جیسے اہم امور پر روشنی ڈالی۔

نمائندوں نے اجتماعی زرعی تجارت کو فروغ دینے کے لیے رکن ممالک کے مابین عدم مساوات کو دور کرنے کی ضرورت پر زوردیا اور بلاک کے اندر زرعی سامان کی درآمد اور برآمد کی سرگرمی میں اضافے کی تجویز دی۔

جنوبی افریقا ایگرو بزنس ورکنگ گروپ کی چیئرپرسن وانڈیل سیہلوبو نے کہا:’’ایک گروپ (برکس) کی حیثیت سے، ہم صرف 300 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتے ہیں لیکن اس میں سے زیادہ تر تجارت بلاک سے باہر ہوتی ہے۔بھارت اور چین اس کا قریباً 85 فی صد درآمد کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ان میں سے کچھ مصنوعات برازیل اور جنوبی افریقا سے درآمد کرسکتے ہیں اور بلاک کے اندر تجارت میں اضافہ کرسکتے ہیں‘‘۔

برکس ممالک کھپت اور پیداوار دونوں میں زراعت کا پاور ہاؤس ہیں، جو سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت کرتے ہیں۔ تاہم، اس تجارت کا ایک بڑا حصہ برکس سے باہر کے ممالک – یورپ اور امریکا – کے ساتھ ہوتا ہے جس کی وجہ بلاک کے اندر تجارتی رکاوٹیں اور وسیع پیمانے پر زرعی تجارت کو آسان بنانے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔

بھارت کی برکس بزنس کونسل کے رکن جئے شیروف نے کہا کہ ہمیں (برکس) زرعی پالیسیوں سے نمٹنے میں زیادہ مؤثرکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاک کے اندرتجارتی رکاوٹیں زرعی پیداوار کو بہت زیادہ متاثر کرنے جا رہی ہیں اور رکن ممالک کے درمیان تحفظ پسندانہ رویہ زرعی خوش حالی کو متاثر کر سکتا ہے۔

فورم میں روس کے نمائندے سرگئی کیٹرین کے مطابق برکس میں زراعت سب سے اہم شعبہ ہے۔ گروپ کے ممالک 315 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات خریدتے ہیں اور اس تجارت کا صرف 20 فی صد برکس ارکان کے ساتھ ہوتا ہے۔

کیٹیرین نے کہا:’’جب زرعی تجارت کی بات آتی ہے تو ہمارے اتحادیوں کے اندر احساس کرنے اور براعظم افریقا کے دیگرممالک کے ساتھ بات چیت کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے‘‘۔

فورم میں نمائندوں نے بنیادی ڈھانچے کے مسائل سے نمٹنے اور بلاک کے اندر سپلائی چین کی رکاوٹوں کو حل کرنے کے مقصد سے ایک ایئرلفٹ حکمتِ عملی کا بھی انکشاف کیا تاکہ برکس ممالک کے اندر آسانی سے رسائی کا راستہ پیدا کیا جاسکے۔

برکس بزنس کونسل برازیل شاخ کے چیئرمین جوز سیراڈور نے کہا:’’ہم نے ایک ایئرلفٹ حکمتِ عملی تجویز کی ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ ہوگا کہ ہمارے پاس برکس ممالک کے درمیان فضائی رابطہ ہو، کارگو، مسافروں اور کاروباری افراد کا بہاؤ قائم ہو جو تجارت کرنے اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں‘‘۔

برکس کے افتتاحی سیشن میں بلاک کے اندر زرعی تجارت کو بڑھانا اہم موضوعات میں سے ایک تھا۔

ایس ایم ایز کا کردار

تاہم فورم میں ہونے والی بات چیت میں دوستانہ حکومتی پالیسیوں کے نفاذ، کھلی منڈیوں کو فروغ دینے اور عالمی تجارتی تنظیم کی جانب سے وضع کردہ کثیرالجہت معاہدوں کے نظام کو اپنانے کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کوترقی دینے کے بلاک کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

برکس بزنس کونسل کے جنوبی افریقا شاخ کے چیئرمین بسی مابوزا نے کہا:’’ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ ہماری معیشتوں کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ ایس ایم ایز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، اور درحقیقت ایس ایم ایز روزگار پیدا کرنے کے مرکز میں ہیں‘‘۔

برکس سربراہ اجلاس تین دن تک جاری رہے گا اور 24 اگست کو اختتام پذیر ہوگا۔ توقع ہے کہ برکس ممالک کے رہ نما اور دیگر مدعو مندوبین اگلے دو دنوں کے دوران میں بلاک کی توسیع اور تجارتی تعلقات سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں