روسی صدر پوتین کی حمایتی خلا میں جانے والی پہلی خاتون کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ دنیا سرد جنگ کے واقعات کے اثرات لے کرآگے بڑھی جس نے سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں کو مشرقی کیمپ سے ریاست ہائے متحدہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کے خلاف کھڑا کردیا۔

اسلحے کی دوڑ، پراکسی جنگوں اور جاسوسی کی کارروائیوں کے علاوہ خلائی دوڑ اس جنگ کے ایک اہم حصے کی نمائندگی کرتی تھی۔ خلائی دوڑ کے درمیان سوویت یونین بہت سے شعبوں میں سرخیل تھا۔ ان میں تاریخ سوویت یونین کی طرف سے پہلی خاتون کو خلا میں بھیجنے کا ذکر کرتی ہے۔

تریشکووا کا انتخاب

اس کے علاوہ ویلنٹینا تریشکووا جو 6 مارچ 1937 کو مسلینیکووو کے گاؤں میں پیدا ہوئیں خلا تک پہنچنے والی پہلی خاتون تھیں۔ اس سوویت خاتون نے اپنی پہلی پیراشوٹ چھلانگ 1959 میں 22 سال کی عمر میں ایک مقامی فلائنگ کلب میں تربیت کے بعد لگائی تھی۔

ویلنٹینا تریشکووا 1963 میں
ویلنٹینا تریشکووا 1963 میں

سنہ 1960ء کی دہائی کے اوائل میں خاتون خلابازوں کو تربیت دینے والی ٹیم میں اپنے انتخاب سے قبل تریشکووا ایک مقامی سلائی فیکٹری میں ایک عام کارکن تھیں۔

بائیں سے دائیں: Gagarin، Popvich، Tereshkova اور Khrushchev
بائیں سے دائیں: Gagarin، Popvich، Tereshkova اور Khrushchev

خلا میں جانے والے پہلے انسان بننے والے خلا باز یوری گاگارین کی حاصل کردہ کامیابی کے بعد سوویت یونین نے پہلی خاتون کو خلا میں بھیج کر نئی تاریخ رقم کرنے کا آغاز کیا۔ تقریباً 400 خواتین کی طرف سے پیش کردہ مطالبات کے حصول کے بعد 12 فروری 1963 کو سوویت خلائی پروگرام کے اہلکاروں نے صرف 5 خواتین کا انتخاب کیا۔ان پانچوں میں ویلنٹینا تریشکووا کا نام بھی شامل تھا۔

اہم شخصیت

اس کے بعد منتخب سوویت خواتین نے سخت تربیت حاصل کی جس میں تنہائی کے ٹیسٹ، پیراشوٹ جمپنگ اور جیٹ پائلٹ کی تربیت شامل تھی۔ ان میں سے ایک کو ٹریننگ کے دوران نکال دیا گیا اور صرف چار خواتین خلابازوں کو برقرار رکھا گیا، جنہیں سوویت فضائیہ میں لیفٹیننٹ کے عہدے سے نوازا گیا۔

ویلنٹینا تریشکووا 2017 میں
ویلنٹینا تریشکووا 2017 میں

پہلے پہل سوویت یونین نے ووسٹوک خلائی پروازوں پر انفرادی طور پر صرف دو خواتین خلابازوں کو بھیجنے کی بات کی۔ ویلنٹینا تریشکووا کا نام اس منفرد سفر پر جانے کے لیے کوالیفائی کرنے والی نمایاں ترین خواتین میں شامل تھا۔ ابتدائی منصوبے کی بنیاد پر ماسکو نے تریشکووا کو پہلے ووسٹوک 5 پر بھیجنے کی حمایت کی، اس کے بعد اس کی ساتھی ویلنٹینا پونوماریووا ووسٹوک 6 پر اس کے ساتھ بھیجا گیا۔

تریشکووا اور بائیکوفسکی خلا میں اپنے لانچ سے ہفتے پہلے
تریشکووا اور بائیکوفسکی خلا میں اپنے لانچ سے ہفتے پہلے

مارچ 1963ء تک سوویت یونین نے اس ابتدائی تجویز کو ترک کر دیا تھا اور ووسٹوک 5 پر ایک مرد خلاباز بھیجنے کی بجائے ووسٹوک 6 پر ٹیرشکووا کواکیلے بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

نکیتا خروشیف
نکیتا خروشیف

ایک کامیاب اور ٹھوس لانچنگ کے بعد تریشکووا نے 16 جون 1963 کو ووسٹوک 6 پر خلا میں قدن رکھا۔ وہ چھبیس سال کی عمر میں خلا تک پہنچنے میں کامیاب ہونے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ اس نے ساتھی شریک پائلٹ بائیکووسکی کے ساتھ ریڈیو پر بات کی، جو ووسٹوک 5 پر خلا میں بھی تھے۔

دوسری جانب سوویت میڈیا نے خلا میں تریشکووا کی تصاویر کی اطلاع دی۔ اس کے علاوہ مؤخر الذکر نے 3 دن سے بھی کم عرصے تک جاری رہنے والی خلائی پرواز کے بعد زمین پر واپس آنے سے پہلے سوویت رہنما نکیتا خروشیف کے ساتھ بےتکلف بات کی تھی۔

اس تجربے کے بعد تریشکووا سوویت کمیونسٹ پارٹی کی ایک اہم شخصیت بن گئیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سوویت یونین کی کونسل میں نشست حاصل کی۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد وہ 2011 میں ریاستی ڈوما کے لیے منتخب ہونے سے پہلے اپنی سیاسی سرگرمی کو برقرار رکھا۔ اگلے برسوں میں انہوں نے ولادیمیر پوتین کے اس خیال کی حمایت کی کہ وہ ان قوانین کو ختم کر کے تاحیات صدارت حاصل کر لیں گے جو روس میں صدر کے عہدے کے حوالے سے آئین میں درج ہیں۔۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں