بائیڈن سعودی عرب

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن 'بڑی بات' ہوگی: امریکی عہدہ دار

دونوں ملکوں میں معمول کے تعلقات امریکا کے مفاد میں ہوں گے لیکن کسی فوری اعلان کی توقع نہ کی جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن ’’بڑی بات‘‘ہوگی۔اس طرح کے معمول کے تعلقات امریکا کے مفاد میں ہوں گے۔

امریکا نے مشرقِ اوسط میں دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات استوار کرنے کے معاہدے کے لیے سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ان امریکی کوششوں کے باوجود وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ابھی اس ضمن میں بہت کام کرنا باقی ہے‘۔

صدر جو بائیڈن اگلے ماہ بھارت میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے یا نہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

سعودی عرب نے اسرائیل سے کسی بھی امن معاہدے کے بدلے میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینیوں کو دیگر اسرائیلی مراعات دینے کے اپنے مطالبے کااعادہ کیا ہے۔ مزید برآں، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب امریکا سے سکیورٹی وعدوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے سویلین جوہری پروگرام کی ترقی میں مدد چاہتا ہے۔

سلیوان کے علاوہ صدر جو بائیڈن کے توانائی کے مشیر اورمشرق اوسط کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے پالیسی چیف سمیت سینیرامریکی حکام نے حال ہی میں سعودی عرب کے متعدد دورے کیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر نے صحافیوں کو منگل کے روز بتایا:’’سویلین جوہری افزودگی کے معاملے یا سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے وسیع تر سوال پر کسی بھی فوری اعلان کی توقع نہ کریں‘‘۔

مسٹر سلیوان نے مزید کہا:’’لیکن یہ ایک ایسی چیز(معمول کے تعلقات) ہے جس پر ہم سعودیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے ساتھ قریبی مشاورت سے کام جاری رکھیں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’جہاں تک وسیع تر امن معاہدے کا تعلق ہے۔اس سے مشرق اوسط کو زیادہ مربوط اور مستحکم بنانے میں مدد ملے گی اور یہ امریکا کے مفاد میں ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن ایک بڑی بات ہوگی کیونکہ ہم زیادہ مربوط مشرق اوسط میں دلچسپی رکھتے ہیں‘‘۔

وائٹ ہاؤس کے عہدہ دار کا کہنا تھا کہ ’’ممکنہ معاہدے میں ’بہت سے عناصر‘شامل ہیں جن کے بارے میں ہمیں دونوں ممالک کے ساتھ مل کرکام کرنے کی ضرورت ہوگی اور ہمارے نقطہ نظر سے اس مقصد کا حصول اہمیت کا حامل اور قابل قدر ہو گا‘‘۔

سعودی عرب نے حال ہی میں سرکاری طور پرانکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے سویلین جوہری پروگرام کو ترقی دے رہا ہے اور اس نے اس پروگرام کے لیے بولی دہندگان میں سے ایک کے طور پر امریکا کو ترجیح دی ہے۔اگرچہ سعودی عرب نے اپنے پاس موجود یورینیم کو افزودہ کرنے اور پھر ایندھن فروخت کرنے کے لیے امریکی ٹیکنالوجی کی درخواست کی ہے ، لیکن واشنگٹن نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اوراسرائیل نے اس طرح کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔

اگر امریکا راضی نہیں ہوتا ہے تو سعودی حکام نے کہا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد کے لیے چین، روس یا فرانس سے رجوع کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں