مصر میں ٹرین ٹکٹ مشین پر کھانا کھانے کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں ٹرین ٹکٹ ٹچ مشین پر کھانے والے ملازمین کی ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر عوامی حلقوں میں غم وغصے کو جنم دیا۔

دوسری طرف مصری وزیر ریلوے نے اس واقعےکی اعلیٰ سطح پر انکوائری کا حکم دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس تصویر پر سماجی کارکنوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ چونکہ وزارت ریلوے نے اپنے ملازمین کے لیے ترقی یافتہ اور مہذب انداز میں کھانے کے لیے ڈیوٹی کی جگہ سے ہٹ کر جگہیں مختص کی ہیں۔ اس کے باوجود ملازمین کا مشینوں پر کھانا رکھ کر کھانے کا واقعہ نا مناسب اور غیر اخلاقی ہے۔ عوامی حقلوں نے اس واقعے کی فوری تحقیقات اور ان ملازمین پر جرمانہ عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء ریلوے کے عہدیدار لیفٹیننٹ جنرل کامل الوزیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پورے واقعے کو فوری تحقیقات کے لیے بھیج دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ان کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مصر میں ریل کا نظام کافی وسیع اور بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ مصر کے وزیر ٹرانسپورٹ کامل الوزیر نے اس سال مارچ میں کہا کہ مصر اپنی تیز رفتار ریلوے سروس کو سوڈان اور لیبیا تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت تیز رفتار ٹرین کی دوسری لائن کو جنوبی مصر میں ابو سمبل سے سوڈان کے وادی حلفہ تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وزیر نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ، وزارت ٹرین کی پہلی لائن کو شمال مغربی مصر میں سلوم اور پھر لیبیا کے بن غازی تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

گذشتہ سال مئی میں مصر اور سیمنز موبیلٹی نے مصر میں 2000 کلومیٹر ہائی سپیڈ ریل سسٹم کی تعمیر کے معاہدے کو حتمی شکل دی جس میں سیمنز موبیلٹی کا حصہ 8.1 بلین یورو تھا۔

مصر میں تیز رفتار ٹرین کا نظام تین لائنوں پر مشتمل ہے۔ پہلی 660 کلومیٹر لائن بحیرہ احمر پر عین سوکھنا کو بحیرہ روم کے متروح اور سکندریہ سے جوڑے گی جبکہ دوسری 1,100 کلومیٹر لائن قاہرہ کو ابو سمبل سے جوڑے گی۔

تیسری لائن بالائی مصر کے الأقصر سے بحیرہ احمر پر ہرغدہ تک 225 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔

اپنی تقریر کے دوران وزیر نے افریقی ممالک میں ریلوے کی ترقی کی ضرورت کے بارے میں بھی بات کی، کہا کہ براعظم کو 2040 تک تقریباً 18,000 کلومیٹر ریل لائنیں تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے افریقہ کو، جس کے پاس دنیا بھر میں کل ریلوے لائنوں کا صرف 5 فیصد ہے، اس کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی جو اسے اپنے ریلوے سسٹم کے منصوبوں میں درپیش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں