ایرانی میزائلوں اور ملیشیاؤں کے بارے میں امریکا کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خلیج فارس کے علاقے اور آبنائے ہرمز میں امریکا کو بحری جہازوں اور دوست ممالک کی معیشتوں پر حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔ امریکا کو اس کے علاوہ بھی ایک تشویش ہے۔ امریکا یہ اس بات پر پریشان ہے کہ بغداد سے دمشق تک اور دمشق سے بیروت تک شاہراہ پر کیا ہو رہا ہے، خاص طور پر جنوبی لبنان کی صورت حال امریکا کے لیے تشویش کاباعث ہے.

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی کا حالیہ دورہ اسرائیل، علاقائی اتحادی کو درپیش حقیقی چیلنجوں کے بارے میں امریکیوں کی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

ملی کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف کے ساتھ بات چیت میں "علاقائی سلامتی کے مسائل اور خطے میں ایران کی طرف سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے دو طرفہ تعاون اور ہم آہنگی کے شعبوں" پر بات ہوئی۔

متعدد نوعیت کے خطرات

مارک ملی کے دفترنے اسرائیلی عسکری قیادت کے ساتھ گفتگو کی تفصیل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

تاہم یہ بات قابل توجہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کے حکام کی اسرائیلی حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکیوں کے جاری کردہ تمام بیانات میں "ایران سے خطرات" کا ذکر کیا گیا تھا اور ہمیشہ ایرانی جوہری پروگرام کے خطرے کی طرف توجہ دی جاتی تھی۔

ایرانی میزائل
ایرانی میزائل

امریکا نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ موقف طویل عرصے سے برقرار ہے اور اب تک یہ موقف کہتا ہے کہ تہران کے پاس 60 فیصد کی سطح پر بڑی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے، لیکن ایران نے اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اجازت نہیں دی ہے۔ جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے ہدف تک پہنچنے کے لیے پورا ایک سال درکار ہے۔ اس سے امریکیوں کو تہران کے ساتھ مذاکرات کرنے اور فوجی طاقت کا استعمال کرنے کا کافی وقت مل جاتا ہے۔

سرحد پر خطرہ

تاہم امریکیوں کے موجودہ خوف کا تعلق ان ہتھیاروں کی مقدار سے ہے جو ایران نے لبنان سے شام اور عراق تک اپنی منسلک ملیشیاؤں کے ہاتھوں پہنچانا شروع کیے ہیں۔

شاید اس باہم مربوط نظام کا مقصد اسرائیل یا امریکا کو کسی بھی فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔

لبنان ، اسرائیل حدود
لبنان ، اسرائیل حدود

سیاق و سباق میں فاؤنڈیشن فار اے نیو امریکن سکیورٹی کے مشرق وسطیٰ سکیورٹی سینٹر کے ڈائریکٹر جوناتھن لارڈ نے وضاحت کی کہ ایران کا خطے میں اپنی ملیشیاؤں کو ہتھیار فراہم کرنے کے دونوں مقاصد یعنی اسرائیل پر حملہ کرنا اور ایران پر حملے کو روکنا ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے حزب اللہ کو جس بھاری ہتھیاروں کی فراہمی کی ہے اس کا مقصد اسرائیل کو کسی بھی کارروائی سے روکنا ہے لیکن اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان یا اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع شروع ہوا تو یہ میزائل اسرائیل کے خلاف استعمال کیے جائیں گے۔

جنوبی لبنان

اس لیے امریکی اور اسرائیلی مل کر حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بارے میں خاصی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ اسرائیلی ریزرو جنرل امیر عویوی کہتے ہیں کہ "حزب اللہ کے پاس 2000 ڈرون طیاروں کا ہونا بہت تشویشناک ہے، خاص طور پر چونکہ یہ ڈرونز اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر اور تھوڑے فاصلے پر واقع ہیں۔"

لبنان میں حزب اللہ کے ارکان
لبنان میں حزب اللہ کے ارکان

انہوں نے نشاندہی کی کہ عراق جغرافیائی طور پر بہت دور ہے۔ وہاں کی ملیشیا کے پاس موجود میزائلوں سے اسرائیل کو کوئی بڑا خطرہ نہیں اور طویل فاصلے کی وجہ سے عراق سے داغے جانے والے میزائلوں یا ڈرونز کا پتہ لگانا آسان ہے۔ سب سے بڑا خطرہ حزب اللہ کی طرف سے ہے۔
شام کی سرزمین سے واضح خطرے کی نشاندہی نہیں کرتا۔

امریکی اور اسرائیلی اکثر خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات خاص طور پر اسرائیل پر حملے کے امکان پر تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں، لیکن دونوں فریقوں کوکافی حد تک یقین ہے کہ حملے کی صورت میں اسرائیل میں کثیر تعداد میں حفاظتی نظام تیار ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں