سعودی عرب کی 2030 تک سالانہ 35 لاکھ پاکستانی سیاحوں کے استقبال پر نگاہیں مرکوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

جیسا کہ سعودی عرب مکہ اور مدینہ سے آگے مزید سیاحتی مقامات کھول رہا ہے اور اپنے ویزا کے عمل کو تیز کر رہا ہے تو سعودی ٹورازم اتھارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس ہفتے کہا کہ مملکت پاکستانی سیاحوں کو جارحانہ طور پر ہدف بنا رہی ہے اور 2030 تک ان میں سے 3.5 ملین سے زیادہ سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سعودی عرب ہزاروں پاکستانیوں کے لیے ایک پسندیدہ مقام ہے جو ہر سال مملکت کا سفر کرتے ہیں، بالخصوص ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے مقدس مقامات پر نماز ادا کرنے اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے۔ دیر سے ہی سہی لیکن مملکت نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین سیاحت کو بڑھانے کے لیے آپشنز کی تلاش شروع کر دی ہے جس میں اس ہفتے کے شروع میں دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کی تعداد بڑھانے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

پاکستانی زائرین کے لیے مزید سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے ایس ٹی اے نے منگل کو پاکستان میں نُسُک ٹریول پلیٹ فارم کا آغاز کیا۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور اس سے آگے کے لیے حج یا عمرہ کے سفر نامے بنانے کے لیے مملکت کا منصوبہ بندی، بکنگ اور تجربے کا پہلا باضابطہ پلیٹ فارم نُسُک ہے۔ یہ پلیٹ فارم پرواز اور ہوٹل بکنگ کے ساتھ ساتھ ای ویزا کے عمل کو آسان بنا کر پوری دنیا کے مسافروں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے سعودی عرب کے دورے کو آسانی سے منظم کریں۔

ایس ٹی اے میں ایشیا پیسیفک (اے پی اے سی) مارکیٹس کے صدر الاحسن الدباغ نے منگل کو نُسُک کے افتتاح کے لیے منعقدہ ایک تقریب میں صحافیوں کو بتایا، "ہم نُسُک کے آغاز سے بہت پر امید ہیں کیونکہ اس سال ہم نے صرف پاکستان سے 10 لاکھ سے زائد زائرین کا خیرمقدم کیا ہے۔ اور ان میں سے زیادہ تر عمرہ کرنے سعودیہ آرہے ہیں لیکن بہت زیادہ پاکستانی ایسے بھی ہیں جو کاروبار کے لیے آرہے ہیں۔"

الدباغ نے کہا کہ پاکستان مملکت کے لیے ایک "اہم اور تزویراتی" مارکیٹ ہے کیونکہ سعودی عرب میں 25 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جنہیں ہر سال ان کے دوست اور رشتہ دار ملنے آتے ہیں۔

ایس ٹی اے کے افسر نے کہا، "ہم پاکستان کے لیے ایک بڑا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم 2030 تک 3.5 ملین سے زیادہ پاکستانیوں کو راغب کرنے کا ہدف رکھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ ایک نہایت محتاط تخمینہ ہے۔"

سعودی وزیرِ حج و عمرہ توفیق بن فوزان الربیعہ ایک بڑے وفد کے ہمراہ چار روزہ سرکاری دورے پر اتوار کو پاکستان پہنچے جہاں انہوں نے پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جس میں دو طرفہ تعلقات اور سیاحت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

الدباغ نے کہا کہ سعودی حکام نے ان پاکستانی سیاحوں کا مطالعہ کیا ہے جو کثرت سے مملکت کا سفر کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے سیاحوں کی متنوع ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے انہیں طبقات میں تقسیم کیا۔

الدباغ نے مشاہدہ کیا کہ "سعودیہ آنے والے (پاکستانی سیاحوں) کا ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو ماہِ رمضان المبارک میں آتا ہے۔ یہ عروج کا سیزن ہوتا ہے اور وہ سعودیہ میں مکہ اور مدینہ میں زیادہ دیر قیام کرتے ہیں۔"

ایس ٹی اے کے اہلکار نے بتایا کہ پاکستانی سیاحوں کا ایک اور طبقہ آف سیزن میں چھٹیوں اور گرمیوں میں اور کچھ اہم مذہبی تقریبات جیسے الاسراء اور المعراج، اور پیغمبرِ اسلام (ص) کے یومِ پیدائش پر مملکت کا سفر کرتا ہے۔

مسلمان اسراء کو رات کے اس سفر سے تعبیر کرتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مسجدِ اقصیٰ تک کیا تھا اور معراج کو مسجدِ اقصیٰ سے آسمان تک کے سفر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

الدباغ نے کہا کہ ایس ٹی اے ان پاکستانی سیاحوں کو ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جو اپنی چھٹیاں یورپ، امریکہ، دبئی یا ترکیہ میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی پاکستان میں اس سال کے آخر تک ایک "بڑی مارکیٹنگ مہم" شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم یہاں پاکستان میں مشہور اور متأثر کن شخصیات اور ٹریول بلاگرز کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس تبدیلی کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جا سکے جو ہم عمرہ کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ مملکت عمرہ ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے والے سیاحوں کے لیے دیگر تاریخی اسلامی مقامات پر توجہ مرکوز کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکام سیاحوں کو غارِ حرا، کوہِ احد اور ملک کی کئی مشہور مساجد کی سیر کی دعوت دے رہے ہیں۔

الدباغ نے نوٹ کیا، "سعودیہ آج عرب کا حقیقی گھر ہے۔ ہمارے پاس سعودیہ میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے چھے اور 10,000 سے زیادہ مقاماتِ آثارِ قدیمہ ہیں۔ ہمارے پاس جدہ میں البلاد جیسی جگہیں ہیں جو کہ پرانا شہر ہے۔"

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مملکت نے اپنا ویزا جاری کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے جس سے زائرین عمرہ ویزا کے لیے آن لائن درخواست دے سکیں گے جو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں جاری ہو جائے گا۔

ایس ٹی اے کے اہلکار نے کہا کہ سعودی عرب سرما کی تقریبات کا آغاز کرے گا جس میں ریاض، العلا اور دیگر سعودی شہروں میں بھی کئی سرگرمیاں ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں