طالبان نے یونیورسٹی اسکالرشپ کے لیے دبئی جانے والی 100 خواتین کو سفر کرنے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دبئی میں قائم ایک اتحاد کے سربراہ نے بدھ کے روز کہا کہ افغانستان کے طالبان حکام نے تقریباً 100 خواتین کو متحدہ عرب امارات جانے سے روک دیا ہے جہاں وہ ان کی یونیورسٹی کی تعلیم کو سپانسر کرنے والے تھے۔

الحبطور گروپ کے بانی چیئرمین خلف احمد الحبطور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں کہا کہ انہوں نے یونیورسٹی میں طالبات کو اسپانسر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور انہیں بدھ کی صبح متحدہ عرب امارات لانے کے لیے انہوں نے ایک طیارے کے اخراجات ادا کیے تھے۔

انہوں نے ویڈیو میں کہا۔ "طالبان حکومت نے ان لڑکیوں کو اجازت دینے سے انکار کر دیا جو یہاں پر تعلیم حاصل کرنے آ رہی تھیں - میرے زیرِ کفالت ایک سو لڑکیاں - انہوں نے انہیں ہوائی جہاز میں سوار ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور ہم نے طیارے کے لیے پہلے ہی ادائیگی کر دی ہے۔ ہم نے ان کے لیے یہاں رہائش، تعلیم، نقل و حمل کی سیکیورٹی، ہر چیز کا انتظام کیا ہوا ہے۔"

طالبان انتظامیہ اور افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے تبصرہ کرنے کے لیے رائٹرز کی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

الحبطور نے وڈیو میں افغان طالبات میں سے ایک کی آڈیو شامل کی جس نے کہا تھا کہ اس کے ساتھ ایک مرد محافظ بھی تھا لیکن کابل ایئرپورٹ کے حکام نے اسے اور دیگر کو پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا۔

طالبان انتظامیہ نے افغانستان میں طالبات کے لیے یونیورسٹیاں اور ہائی اسکول بند کر دیے ہیں۔

وہ افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن عموماً طویل مسافت اور بیرون ملک سفر کرنے والی افغان خواتین کو ایک مرد محافظ جیسے کہ ان کے شوہر، والد یا بھائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں