نوجوان کو فوارے سے نکلنے والے تیز رفتار پانی کو چھیڑنا مہنگا پڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنیوا جھیل میں لگے ایک بڑے فوارے کے پانی کے ساتھ چھیڑنا ایک منچلے کو مہنگا پڑ گیا۔

بیس سال کے ایک نوجوان کو جنیوا جھیل کے بہت بڑے جنیوا فاؤنٹین سے 140 میٹر کی بلندی پر اٹھنے والے پانی کو چومنے کی کوشش کرنے کا خیال آیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ نوجوان نے پانی کے فوارے تک رسائی کی رکاوٹ کو عبور کیا حالانکہ حکومت کی طرف سے فوارے کے قریب جانے پر پابندی تھی۔

نوجوان نے اپنا چہرہ فوارے کی نوزل کے قریب کیا۔ جہاں سےپانی 200 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 500 لیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے بہہ رہا تھا۔

جنیوا کا مشہور فوارہ
جنیوا کا مشہور فوارہ

اخبار "20 منٹ" ر کی رپورٹ کے مطابق فوارے سے نکلنے والے پانی نے نوجوان کو ایک جھٹکا لگایا۔

فوارے کے پانی کے دباؤ نے نوجوان کو زور دار جھٹکے سے پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔

اخبار نے بتایا کہ اس واقعے کے باوجود نوجوان باز نہیں آیا اور اس نے اپنی طاقت مجتمع کرکے دوبارہ فورے کے پانی سے کے قریب جانے کی کوشش کی۔ اس بار اس نے منہ لگانے کے بجائے اپنے دونوں ہاتھ اس کے پانی کی طرف بڑھائے۔

لیکن پانی کے دباؤ نے اسے کئی میٹر بلندی پر اچھال دیا۔وہ نوزل کے ارد گرد سلیب پر گرا۔ پھر اس نے خود کو جھیل میں پھینک دیا۔

متعدد عینی شاہدین کی رپورٹ ملنے کے بعد پولیس اسے پانی سے باہر نکالا۔

ایک عینی شاہد نے اخبار کو بتایا کہ پولیس افسران نے "فوری طور پر فوارے کے پانی کو کاٹنے کو کہا تاکہ وہ اسے نکال سکیں۔"

جنیوا پولیس کی ترجمان ایلین ڈار نے کہا کہ پولیس نے "اسے بچایا اور اسے اپنی کشتی میں اٹھا لیا"۔ ایک ایمبولینس نے نوجوان کو جنیوا یونیورسٹی کے ہسپتال میں پہنچایا۔
تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا نوجوان کی صحت بہتر ہوئی یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں