کروناکی نئی قسم ای جی 5 سے نمٹنے کے لیے اضافی اقدامات درکارنہیں:سعودی وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے واضح کیا ہے کہ کروناوائرس کی نئی قسم ای جی.5 کا بیماری کی شرح یا شدت پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا ہے ،لہٰذا صحت سے متعلق اضافی اقدامات کی ضرورت نہیں ہے۔

کرونا کی نئی قسم کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت کے ایک ذریعے نے کہا:’’جہاں تک بیماری کی شدت کا تعلق ہے، ای جی 5 وائرس ابھی تک کوئی خطرے کی گھنٹی نہیں لگ رہا ہے‘‘۔

اس ذریعے نے بتایا کہ وزارت صحت کووِڈ-19 کی جینیاتی ترتیب کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور پبلک ہیلتھ اتھارٹی (وقایا) کی لیبارٹریوں کے ذریعے ای جی.5 قسم سمیت اومیکرون کے متعدد ذیلی اقسام کی نگرانی کی جارہی ہے۔

اومیکرون، ای جی 5 یا ایرس کی نسل پہلے ہی کرونا وائرس کی ذیلی شکلیں ہیں، جو کسی بھی دوسری قسم کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ جہاں تک بیماری کی شدت کا تعلق ہے، ای جی 5 قسم کسی خطرے کی گھنٹی نہیں بجا رہی ہے، حالانکہ ابتدائی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ یہ زیادہ متعدی ہوسکتی ہے۔ اس نے ایکس بی بی.1.16 کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ، جو ایک اور انتہائی متعدی اومیکرون ذیلی قسم ہے اورچند ماہ قبل اس کے کیس سامنے آئے تھے۔

ای جی.5 قسم اس وقت امریکا میں کرونا وائرس کی سب سے زیادہ اثرانداز ہونے والی شکل ہے۔ 18 اگست کو مرکز برائے انسداد امراض اور بچاؤ (سی ڈی سی) نے تخمینہ ظاہر کیا تھا کہ ای جی 5 20.6 فی صد نئے انفیکشن کا ذمے دار تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں