عالمی اثر ورسوخ، جی سیون سے مقابلے کے لیے برکس کی سعودی عرب کو دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا کی بڑی ابھرتی ہوئی مارکیٹ برکس تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سرفہرست سعودی عرب اور کئی دوسرے ممالک کو اپنے بلاک میں شامل ہونے کی دعوت دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد اپنے عالمی اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔

برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے رہنماؤں نے اس ہفتے جوہانسبرگ میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں برکس گروپ کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ 2010 کے بعد پہلی توسیع ہو گی۔

مصر ایک اور ملک ہے جسے مشرق وسطیٰ سے شامل ہونے کے لیے مدعو کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ فہرست بدھ کے آخر تک زیر بحث تھی، اہم ذرائع نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انکشاف کیا۔

برکس اراکین نے کہا ہے کہ ایک بڑا گروپ عالمی معاملات میں گروپ آف سیون کے غلبے کا مقابلہ کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

توسیع کے لیے دباؤ زیادہ تر چین کی طرف سے ہے اور اسے روس اور جنوبی افریقہ کی حمایت حاصل تھی۔ ہندوستان کو خدشہ تھا کہ ایک بڑا برکس گروپ چین کے لیے ایک ماؤتھ پیس میں تبدیل ہو جائے گا، جب کہ برازیل کو خدشہ ہے کہ اس سے مغرب تنہا ہوجائے گا۔

سعودی عرب اور مصر نے ممکنہ طور پر برکس میں شمولیت کے بارے میں اپنی پوزیشن کا اعلان نہیں کیا ہے، حالانکہ ریاض نے اجلاس میں ایک وفد بھیجا ہے۔

گلوبل ساؤتھ سے 20 سے زیادہ ممالک نے سربراہی اجلاس سے پہلے شرکت کی باضابطہ درخواست کی تھی۔

سعودی عرب اور انڈونیشیا کی شمولیت سے توسیع شدہ برکس 2040 تک عالمی معیشت کا 44 فیصد حصہ ہوگا، جو کہ گروپ آف سیون کی مجموعی گھریلو پیداوار کے متوقع 21 فیصد کو پیچھے چھوڑ دے گا، جیسا کہ بلومبرگ اکنامکس کی پیشن گوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں