سابق امریکی صدر ٹرمپ کی مگ شاٹ اور عطیات کی اپیل کے ساتھ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو ایک تصویری پوسٹ کے ساتھ سوشل میڈیا سائٹ ایکس جو پہلے ٹویٹر کے نام سے معروف تھی، پر واپس آئے جس میں جارجیا کی فلٹن کاؤنٹی جیل میں ان کی بکنگ کے بعد دن کے اوائل میں لیا گیا ان کا مگ شاٹ دکھایا گیا تھا۔

عطیات کی اپیل والی پوسٹ کے ساتھ ٹرمپ نے اس پلیٹ فارم پر عوام تک براہ راست رسائی دوبارہ حاصل کر لی ہے جس نے 6 جنوری 2021 کو کانگریس پر ان کے حامیوں کے حملے کے بعد ان پر پابندی لگا دی تھی۔

19 نومبر کو سان فرانسسکو میں قائم ایپ نے ارب پتی ایلون مسک کے ماتحت اپنی پوزیشن کو تبدیل کر دیا جو خود کو ایک "آزادئ تقریر کے حامی استبدار پسند" کہلاتے ہیں اور جنہوں نے 2 اکتوبر کو ٹویٹر خریدا۔

ٹرمپ جن کے ٹویٹر پر پابندی کے وقت 88 ملین سے زیادہ پیروکار تھے، نے جمعرات کو مگ شاٹ کی ایک تصویر ان الفاظ کے ساتھ پوسٹ کی: "انتخابی مداخلت! کبھی ہتھیار نہ ڈالیں!" لائیو ہونے کے 50 منٹ بعد اس پوسٹ کو 14 ملین سے زیادہ ملاحظات ملے۔

امریکی اجلاس گاہ میں ہنگامہ آرائی کے بعد تشدد میں مزید اضافے کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹر نے جنوری 2021 میں ٹرمپ کا اکاؤنٹ مستقلاً معطل کر دیا تھا۔

انہوں نے ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں 2020 کے انتخابات میں شکست ووٹر کی بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور دیگر سازشی نظریات کی وجہ سے ہوئی تھی۔

15 نومبر کو ٹرمپ نے 2024 میں وائٹ ہاؤس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بولی شروع کی۔

بدھ کے روز ٹرمپ نے فاکس نیوز پر ریپبلکن پرائمری ڈیبیٹ سے علیحدگی اختیار کی جس نے لاکھوں ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا جنہوں نے ایکس پر ایک حریف انٹرویو دیکھا - یا کم از کم اسکرول کیا۔

سائٹ کے اعدادوشمار کے مطابق قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن کے ساتھ اس 46 منٹ کی گفتگو نے جمعرات کی رات تک تقریباً 250 ملین ملاحظات حاصل کیے۔

جمعرات کی شام ٹرمپ نے ایک عہد شکنی کی کہ وہ خصوصی طور پر اپنے نئے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کے ساتھ رہیں گے۔ یہ ایپ ان کے ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کے سٹارٹ اپ نے تیار کی ہے۔ جمعرات تک ٹرتھ سوشل پر ٹرمپ کے 6.4 ملین فالوورز تھے۔

ٹرمپ کا اپنے پیروکاروں کے ساتھ براہِ راست رابطے کا بنیادی ذریعہ ٹروتھ سوشل رہا ہے جب انہوں نے مئی میں ایپ پر باقاعدگی سے پوسٹ کرنا شروع کیا تھا۔ سابق صدر نے اپنے اتحادیوں کو فروغ دینے، اپنے مخالفین پر تنقید کرنے اور ریاست، کانگریس اور وفاقی تفتیش کاروں سے قانونی جانچ پڑتال کے درمیان اپنی ساکھ کا دفاع کرنے کے لیے ٹروتھ سوشل کا استعمال کیا ہے۔

ایک سال پہلے ٹی ایم ٹی جی نے ڈیجیٹل ورلڈ ایکوزیشن کارپوریشن (ڈی ڈبلیو اے سی) کے ساتھ انضمام کرکے عوامی سطح پر جانے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کیا۔ ڈی ڈبلیو اے سی خاص مقصد کے حصول کی ایک کمپنی (ایس پی اے سی) ہے۔ اس سے ٹی ایم ٹی جی کو 1.3 بلین ڈالر کی نقد رقم ملے گی – لیکن اب یہ معاہدہ محکمۂ انصاف اور ایس ای سی کی تحقیقات کی بنا پر شکوک و شبہات کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کا طے ہونا تاخیر کا شکار ہے۔

ٹرمپ کی کمپنی کو ایک اہم اور نازک ڈیڈ لائن کا سامنا ہے جب ڈی ڈبلیو اے سی کے حصص یافتگان کے پاس 5 ستمبر کو صبح 10 بجے تک کا وقت ہے کہ وہ ٹی ایم ٹی جی کے ساتھ انضمام کی مدت میں توسیع کے لیے ووٹ دیں۔ اگر ڈی ڈبلیو اے سی کو ووٹ نہ ملے تو ایس پی اے سی 8 ستمبر کو کاروبار کا معاہدہ ختم کر دے گا۔

ٹرمپ نے 2021 میں ٹویٹر پلیٹ فارم سے معطلی پر اس کے خلاف یہ دلیل دیتے ہوئے مقدمہ دائر کیا کہ اس اقدام سے امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔

کیلیفورنیا میں ایک امریکی جج نے کیس کو خارج کر دیا اور کیلیفورنیا کے پاساڈینا میں ایک وفاقی اپیل عدالت 4 اکتوبر کو اس تنازعے کو سننے والی ہے۔ ٹرمپ کے وکلاء نے کہا ہے کہ ان کے دعوے اب بھی قابلِ عمل ہیں اور ایکس (سابقہ ٹویٹر) پلیٹ فارم پر ان کی بحالی کے باوجود اپیل عدالت میں ان پر فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں