ترکیہ میں جنگل میں لگی آگ بے قابو، جنگلی جاندار خود کو دفن کرنےلگے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک حکام چند روز قبل ملک کے جنگلات کے الگ الگ علاقوں میں لگنے والی متعدد مقامات کی آگ پر قابو پانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن اب تک وہ صرف تین علاقوں "اسکیشیر"، "اضنہ" اور "جانا کلی" ٟمیں آگ بجھانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ یہ علاقے شمال مغربی ترکیہ میں درنیل کے ساحل پر واقع ہیں جہاں دو دن سے مسلسل آگ لگی ہوئی ہے۔

ترکیہ کے وزیر زراعت اور جنگلات ابراہیم یومکلی نے آج ہفتے کو بتایا کہ حکام آخرکار جنا کلی کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر ان کے پھیلنے کے 48 گھنٹے بعد قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔آگ بجھانے والی ٹیموں کے 3 ہزار 174 افراد نے آگ بجھانے میں حصہ لیا جس میں 790گاڑیوں ، 38 ہیلی کاپٹرو اور 10 ڈرون سے مدد لی گئی۔

اس ہفتے کی دوپہر کو ترک وزیر کے اعلان کے باوجود ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ "گانا کلی میں لگنے والی آگ پر امدادی ٹیموں کے قابو پانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس علاقے کو اب نئی آگ سے خطرہ نہیں ہے، چونکہ یہ آگ پھیل چکی ہے اس لیے وہ مزید بھڑک سکتی ہے۔

گانا کالی کی آگ اس سال کی سب سے بڑی آگ تھی جو ترکیہ نے رواں سال کے دوران الگ الگ مقامات پر لگی۔

ترک وزیر نے موجودہ آتشزدگی کے نتیجے میں ہونے والے مادی نقصانات کے نتائج کا اعلان نہیں کیا، حالانکہ آگ نے خطے میں زرعی مشینری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جنگلات میں لگنے والی آگ کے باعث جانی نقصان کی بھی اطلاع نہیں مل سکی۔

مقامی ترک میڈیا کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو ایسے جانور ملے جنہوں نے آگ سے بچنے کے لیے خود کو زمین پر دفن کر دیا تھا۔

میڈیا نے انکشاف کیا کہ کچھوے اور ہیج ہاگ جیسے جانوروں نے زمین کے اندر چھپ کر خود کو بچانے کی کوشش کی۔

سوشل میڈیا صارفین نے آگ بجھانے والوں کی تصاویر بھی شیئر کیں جب انہوں نے آگ میں پھنسے کتے کو بچا لیا۔

اس کے ساتھ ہی جانوروں کی تلاش اور بچاؤ ٹیمیں گانا کلی جنگلات میں آگ پر قابو پانے کے بعد چھپے ہوئے جانوروں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جہاں وہ پہلے ہی ان میں سے کئی کو بچانے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں