ہندوتوا کا عفریت بھارتی تعلیمی اداروں میں گھس آیا؟

ہندو استانی کی نگرانی میں مسلمان طالب علم کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی ایک خاتون اسکول ٹیچر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ کلاس روم میں موجود طلبہ کو اپنے ہم جماعت مسلم طالب علم کو تھپڑ مارنے کا کہتی دکھائی رہی ہیں۔

سماجی پلیٹ فارم ’ایکس‘پر گذشتہ روز سے ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں خاتون اسکول ٹیچر کے کہنے پر مسلمان طالب علم کو ان کے ہم جماعت طلبہ تھپڑ مار رہے ہیں جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اسکول ٹیچر مبینہ طور پر بچوں کو نفرت کرنے پر اکسا رہی ہیں۔

ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی عمر سات سے 10 کے درمیان ہیں اور وہ بھارت کے کسی پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

یہ ویڈیو بھارتی ریاست اترپردیش کی ہے جہاں ترپتا تیاگی نامی اسکول ٹیچر نے سات سالہ محمد التمش کو سزا کے طور پر کھڑا کیا ہوا ہے اور وہ نیچے بیٹھے دیگر بچوں کو کہتی ہیں کہ مسلم طالب علم کو زور دار تھپڑ رسید کریں۔

خاتون ٹیچر اپنی ویڈیو میں کہتی ہیں کہ ’تمام مسلمانوں کو یہاں سے چلے جانا چاہیے‘۔ جس پر بظاہر ویڈیو بنانے والا شخص اسکول ٹیچر سے اتفاق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں، ان کی وجہ سے پڑھائی خراب ہو گئی ہے۔‘

ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ جب ایک بچہ محمد التمش کو تھپڑ رسید کرتا ہے تو اسکول ٹیچر کہتی ہیں کہ ہلکا تھپڑ نہیں بلکہ زور دار تھپڑ رسید کریں جس کے بعد بچہ ایک بار پھر مسلم طالب علم کی کمر پر تھپڑ رسید کرتا ہے۔

دوسری جانب سات سالہ محمد التمش سب کے سامنے زار وقطار رو رہا ہے اور انتہائی خوفزدہ دکھائی دے رہا ہے۔

بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں مسلم آبادی 20 فیصد ہے، یعنی ریاست میں 23 کروڑ 50 لاکھ مسلم بستے ہیں۔

محمد التمش کے والدین نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ 24 اگست کو پیش آیا تھا، ان کا بیٹا مظفر نگر شہر سے 30 کلومیٹر دور کبا پور گاؤں کے نیہا پبلک اسکول میں پڑھنے جاتا ہے۔

محمد التمش کی والدہ روبینہ نے بتایا کہ ’کل میرا بیٹا روتے ہوئے گھر آیا، وہ انتہائی صدمے سے دوچار تھا، کیا آپ بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں؟‘

متاثرہ مسلم طالب کے والد محمد ارشاد کے مطابق خاتون ٹیچر نے جماعت کے تمام بچوں کو کہا تھا کہ وہ ایک ایک کرکے میرے بیٹے کو تھپڑ ماریں۔ والد کا کہنا تھا کہ ’ٹیچر کا مؤقف ہے کہ میرے بیٹے نے سبق یاد نہیں کیا تھا اس لیے انہوں نے ایسا سلوک کیا۔

دوسری جانب پولیس افسر کا کہنا ہے کہ بچے اور والدین کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے بعد اسکول انتظامیہ اور استانی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سماجی پلیٹ فارم پر ویڈیو گردش کے بعد سوشل میڈیا صارفین ٹیچر کے توہین آمیز رویے پر غم وغصے کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ کئی صارفین اسکولوں میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا ذکر بھی کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں