ایک تصویر اور فلائٹ اٹینڈنٹ کا پیغام پریگوژن کی موت کا راز کھول سکتے

فلائٹ اٹینڈنٹ نے اہل خانہ کو پرواز اور طیارے کے بارے میں خطرناک تفصیل سے آگاہ کیا تھا: برطانوی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پریگوژن کے طیارے کی خوبصورت فلائٹ اٹینڈنٹ کرسٹینا راسپوپووا کے اہل خانہ کے بیانات نے حادثہ کو نیا رخ دے دیا ہے۔ ان بیانات سے واگنر سربراہ کے طیارے کے تباہ ہونے کی وجوہات جاننے کا موقع مل گیا ہے۔ فلائٹ میں موجود واحد فلائٹ اٹینڈنٹ کرسٹینا راسپوپووا نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر طیارہ میں سوار ہونے سے پہلے اپنے آخری کھانے کی تصویر پوسٹ کی تھی۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹ نے اپنے اہل خانہ کو آگاہ کیا کہ طیارہ تکنیکی جانچ اور نامعلوم مرمت کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا ہے۔

ایمبریئر 135 پرائیویٹ بزنس طیارے میں پریگوژن تنہا نہیں تھا بلکہ اس کے 6 ساتھی بھی موجود تھے جن میں پریگوژن کا اسسٹنٹ دمتری یوٹکن اور عملہ کے 3 افراد شامل تھے۔ عملہ کے یہ تین افراد پائلٹ، اس کا اسسٹنٹ اور ایئر ہوسٹس تھے۔

پریگوژن کے طیارے کا پائلٹ
پریگوژن کے طیارے کا پائلٹ

حادثے کے موقع پر طیارے کے شریک پائلٹ رستم کریموف نے دیکھ بھال کے بعد جہاز میں سوار ہونے کے لیے اڑان بھری اور مسافروں کے ایک گروپ کے ساتھ اسے واپس سینٹ پیٹرزبرگ پہنچایا۔ اس میں واگنر کے بانی پریگوزن اور دمتری یوٹکن بھی شامل تھے۔

ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ اس بات کو مسترد کرنا ممکن نہیں ہے کہ مرمت کی حالت میں طیارہ میں بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔ یہ مفروضہ ہے کہ دھماکہ خیز ڈیوائس لینڈنگ وہیل میں سے ایک کے ڈبے میں نصب کی گئی ہو سکتی ہے۔ بہ قول ذرائع ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ہوا میں ایک پہیے میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں طیارے کا ایک پر گر گیا۔

برطانوی اخبار کے مطابق دھماکے اور دباؤ میں کمی کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام افراد فوری طور پر ہوش کھو بیٹھے۔ اسی وجہ سے عملے کو ایمرجنسی کی اطلاع دینے کا موقع نہ ملا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں