بھارتی وزیر اعظم مودی کا افریقی یونین کو جی 20 میں شامل کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے افریقی یونین کو جی 20 کا رکن بنانے پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک اگلے ماہ نئی دہلی میں ہونے والے گروپ کے سربراہ اجلاس سے قبل سپلائی چین کے مسائل کا حل بننا چاہتا ہے۔

بڑی معیشتوں کا گروپ 20 دنیا کے انیس ممالک اور یورپی یونین (ای یو) پر مشتمل ہے۔ یہ عالمی جی ڈی پی کا قریباً 85 فی صد اور دنیا کی دوتہائی آبادی پر مشتمل ہے لیکن جنوبی افریقا براعظم کا واحد رکن ہے۔

دسمبر میں، امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ افریقی یونین جی 20 کے مستقل رکن کی حیثیت سے شامل ہو۔انھوں نے مزید کہاکہ ’’آنے میں ایک طویل وقت لگا ہے، لیکن یہ آنے جا رہا ہے‘‘۔

اتوار کے روز جی 20 کے موجودہ میزبان نریندر مودی نے پورے افریقی بلاک کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کا مجموعی جی ڈی پی پچھلے سال 30 کھرب ڈالر تھا۔

نریندرمودی نے 9 سے 10 ستمبر تک ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس سے قبل بزنس فورم میں کہا کہ ہم نے افریقی یونین کو مستقل رُکنیت دینے کے وژن کے ساتھ مدعو کیا ہے۔

افریقی یونین کے صدردفاتر ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں واقع ہیں۔اس کے 55 ارکان ہیں، لیکن فوجی جنتا کے زیر اقتدار پانچ ممالک اس وقت معطل ہیں۔

مودی نے یہ بھی کہا کہ بھارت کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں رکاوٹوں کے بعد مؤثر اور قابل اعتماد عالمی سپلائی چین" بنانے کا "حل" ہے۔نئی دہلی چین کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ کو فروغ دے رہا ہے۔

مودی نے کہا کہ کووِڈ-19 سے پہلے اور اس کے بعد کی دنیا بہت بدل گئی ہے۔دنیا عالمی سپلائی چین کو پہلے کی طرح نہیں دیکھ سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جب دنیا اس سوال سے نبرد آزما ہے تو میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ بھارت اس مسئلے کا حل پیش کرسکتاہے۔

دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک بھارت اور چین کے درمیان تعلقات 2020 میں ہمالیہ کی سرحد پر ہونے والی ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہو گئے تھے جس میں 20 بھارتی فوجی اور کم از کم چار چینی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو ایک سربراہی اجلاس کے موقع پر بالمشافہہ ملاقات کی۔بیجنگ نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے اپنی متنازع سرحد پرکشیدگی کو کم کرنے کے لیے’’واضح اور گہری‘‘ بات چیت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں