فرانس میں اسکولوں میں اسلامی عبایا پہننے پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی وزیرِتعلیم نے اسکولوں میں مسلمان طالبات کےعبایا پہننے پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ یہ لباس تعلیم کے حوالے سے فرانس کے سخت سیکولر قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

وزیرتعلیم گیبریل اٹل نے ٹی ایف ون ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب اسکولوں میں عبایا پہننا ممکن نہیں ہوگا اور وہ 4 ستمبر سے ملک بھر میں کلاسوں کی واپسی سے قبل اسکول سربراہان کو’’قومی سطح پر واضح قواعد‘‘ دیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ فرانس نے 19 ویں صدی کے قوانین کے بعد سے سرکاری اسکولوں میں مذہبی علامات پر سخت پابندی عاید کررکھی ہے۔وہ سرکاری اداروں میں تعلیم سے روایتی کیتھولک اثرو رسوخ کے خاتمے اور بڑھتی ہوئی مسلم اقلیت سے نمٹنے کے لیے رہ نما خطوط کی تجدید کررہا ہے۔

فرانس نے 2004ء میں اسکولوں میں حجاب اوڑھنے پر پابندی عاید کر دی تھی اور 2010 میں عوامی مقامات پر مکمل چہرے کے نقاب پر پابندی لگا دی تھی، جس سے اس کی 50 لاکھ مسلم کمیونٹی میں سے کثیر تعداد نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

سیکولرازم کا دفاع فرانس میں ایک زوردار سیاسی نعرہ ہے اور یہ روشن خیالی کی لبرل اقدار کی حمایت کرنے والے بائیں بازو سے لے کر انتہائی دائیں بازو کے ووٹروں تک پورے سیاسی منظرنامے میں گونج رہا ہے۔یہ طبقات فرانسیسی معاشرے میں اسلام کے بڑھتے ہوئے کردار کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔

اسی کے تسلسل میں وزیر تعلیم گیبریل اٹل نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اسکولوں میں عبایا نہیں پہنا جاسکے گا کیونکہ جب آپ کمرۂ جماعت میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو صرف طلبہ یا طالبات کو دیکھ کر ان کے مذہب کی شناخت نہیں کرنی چاہیے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں