پریگوژن کا غدار اور واگنر کی قیادت کا امیدوار تروشیو سیڈوئے کون ہے؟

پوتین کا معتمد اور سابق لیفٹیننٹ کرنل ’’ سیڈوئے‘‘ پریگوژن اور روسی وزارت دفاع کے درمیان اہم رابطہ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ماسکو پر ایک پراسرار طیارہ حادثے میں اپنے قتل سے پہلے پریگوژن نے خود کو واگنر کے ناقابل تبدیل لیڈر کے طور پر ثابت کیا تھا۔ کرائے کے فوجیوں، کان کنی کمپنیوں، سیاسی مشیروں اور غلط معلومات فراہم کرنے والوں کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کے درمیان پریگوژن نے لیڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔

پریگوژن نے افریقی حکومتوں کے ساتھ بھی تعلقات استوار کیے۔ اسی وجہ سے کرائے کے فوجیوں کے گروپ ’’ واگنر‘‘ کو پورے براعظم افریقہ میں ماسکو کے مفادات کے لیے بہترین خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی گئی۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روس پریگوژن کے بعد کے دور میں ان کرائے کے فوجیوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

ایک روسی صحافی ڈینس کوروٹکوف جنہوں نے گزشتہ ایک دہائی سے واگنر کے بارے میں رپورٹنگ کی ہے نے کہا کہ کچھ ایسے قابل لوگ ہیں جو واگنر کی قیادت کے محل قدم رکھنا چاہیں گے تاہم ان میں پریگوژن جیسا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہیں افراد میں آندرے تروشیف بھی ہیں۔

آندرے تروشیف روسی صدر پوتین کے قریبی ساتھی اور روسی وزارتِ داخلہ کے سابق لیفٹیننٹ کرنل ہیں۔ وہ یوکرین کی جنگ کے دوران پریگوژن اور وزارتِ دفاع کے درمیان اہم رابطہ تھے۔ ان کو پریگوژن کی جگہ سنبھالنے کے حوالے سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔

تروشیف کا عرفی نام "سیڈوئے" تھا جس کا مطلب ہے "سرمئی بالوں والا"۔ سیڈوئے ایک تجربہ کار سابق فوجی ہیں جنہوں نے نے افغانستان پر سوویت یونین کے حملے، شمالی چیچنیا اور خاص طور پر چیچن جنگ جیسی متعدد جنگوں میں حصہ لے رکھا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ٹیلیگرام چینلز اور واگنر سے منسلک فوجی بلاگرز نے کہا کہ تروشیف کو گروپ سے نکال دیا گیا تھا۔ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تروشیف نے گزشتہ جون میں روسی فوج کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد پریگوژن کو دھوکہ دیا تھا۔ اس موقع پر تروشیف وزارت دفاع کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواہشمند تھا۔ .

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تروشیف واگنر کی ان چند عوامی شخصیات میں سے ایک ہیں جو بدھ کے روز ماسکو کے شمال مغرب میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے مسافروں کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔

تروشیف تجربہ کار فوجی ہے۔ اس نے افغانستان اور چیچنیا میں روس کی جنگوں میں حصہ لیا تھا۔ اس کا تعلق پوتین کے آبائی شہر سینٹ پیٹرزبرگ سے ہے اور صدر کے ساتھ ان کی کئی تصاویر لی گئی ہیں۔

2021 میں جاری کردہ ایک دستاویز میں یورپی یونین نے تروشیف کو واگنر گروپ کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور اس کے بانی ارکان میں سے ایک کے طور پر بیان کیا تھا۔ یورپی یونین نے اس وقت کہا تھا کہ آندرے تروشیف شام میں واگنر گروپ کی فوجی کارروائیوں میں براہ راست ملوث تھے۔

روسی بین الاقوامی امور کی کونسل میں عسکری امور کے ماہر انتون مرداسوو نے کہا ہے کہ تروشیو نئے واگنر کے مستقبل کے رہنماؤں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں