امریکی سفیر کا بیان سفارتی اصولوں اور آداب کے منافی ہے:سوڈانی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کل ہفتے کے روز سوڈان کے دفتر خارجہ نے خرطوم میں امریکی سفیر جان گوڈفری کے ملک میں جاری تنازع کے بارے میں دیے گئے بیانات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

سوڈانی وزارت خارجہ نے سوڈانی نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ گاڈفری کے بیانات "سفارتی اصولوں اورآداب سے متصادم ہیں۔ ایسے بیانات جنگ زدہ سوڈان کو بحران سے نکلنے میں مدد نہیں کرسکتے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ سوڈانی فوج کو ریپڈ سپورٹ فورسز [آر ایس ایف] کے برابر درجہ دینے پر امریکی سفیر کی گفتگو میں "انصاف اور اخلاقی مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکی سفیر اور ان کے ملک کی حکومت اس غیر متوازن اور ناقص موقف کو درست کریں گے۔"

گاڈفری نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ سوڈان میں متحارب فریقوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک پر حکومت کرنے کے لیے نااہل ہیں۔ انہیں تنازع ختم کر کے اقتدار ایک سویلین عبوری حکومت کو منتقل کرنا چاہیے۔

گاڈفری نے ٹویٹر پر مزید کہا کہ "متحارب فریق جنہوں نے خود کو حکومت کرنے کے لیے نااہل ثابت کیا ہے انہیں تنازعات کو ختم کرنا چاہیے اور اقتدار ایک سویلین عبوری حکومت کو منتقل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایک ایسا مستقبل جسے سوڈانی عوام خود بنائیں گے ملک میں امن و سلامتی کی بحالی کے بعد ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔"

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ اور بھوک سے سوڈان کو مکمل طور پر "تباہئ" کے دھانے پر ہے۔ اس ملک میں 15 اپریل سے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان ہونے والی پرتشدد لڑائیوں کی وجہ سے لوگ بد ترین معاشی بحران سے دوچار ہیں۔ خود مختاری کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان لڑائی کے آغاز کے بعد اپنے پہلے داخلی اور خارجی دورے کر رہے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ACLED کے مطابق لڑائی میں اب تک تقریباً 5000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن حقیقی تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے، کیونکہ ملک کے بہت سے علاقے مکمل طور پر منقطع ہیں اور دونوں فریق اپنے نقصانات کی تفصیلات جاری کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

چار ماہ کی لڑائی کے دوران، 4.6 ملین سے زیادہ لوگ ملک کے اندر بے گھر ہو چکے ہیں یا ہمسایہ ممالک میں نقل مکانی کرچکےہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں