20 سالہ سفید فام امریکی کی ’سیاہ فاموں سے نفرت‘ نے چار زندگیاں نگل لیں

شوٹر نے ٹیکٹیکل جیکٹ پہن رکھی تھی اور وہ آے آر طرز کی رائفل اور گلاک پستول سے مسلح تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکام کے مطابق نسل پرستی کی وجہ سے ایک سفید فام حملہ آور نے فلوریڈا کے ایک سٹور میں چار سیاہ فام افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تین سیاہ فام افراد کو نشانہ بنانے کے بعد حملہ آور نے خود کو بھی گولی مار لی۔ یہ واقعہ فلوریڈا کے شہر جیکسن وائل میں پیش آیا۔

جیکسن وائل کے پولیس افسر ٹی کے واٹرز نے ایک نیوز کانفرس نے دوران کہا کہ فائرنگ کے اس واقعے میں تین مرد اور ایک خاتون جان سے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور نے وفاقی قانون نافذ کرنے والے حکام اور میڈیا کے ایک اداروں کو ایک تحریر بھیجی تھی جس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ حملہ آور ’سیاہ فاموں سے نفرت کرتا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور کا عمل انفرادی تھا اور ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ کسی تنظیم کا حصہ تھا۔

پولیس افسر ٹی کے واٹرز کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کی عمر 20 سال سے زیادہ تھی اور اس کے پاس گلاک پستول اور ایک سیمی آٹومیٹک رائفل تھا جس پر سواستیکا کا نشان بنا ہوا تھا۔

’اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ یہ حملہ آور 2016 میں گھریلو تشدد کے واقعے میں بھی ملوث رہا تھا اور اپنی خواہش کے خلاف دماغی امراض کے ہسپتال میں معائنے کے لیے گیا تھا۔‘

حکام نے ابھی تک فائرنگ کرنے والے شخص کا نام جاری نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں