اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کرنے پر لیبیائی وزیرِ خارجہ معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی وزیرِ خارجہ ایلی کوہن کی طرف سے گذشتہ ہفتے روم میں لیبیائی وزیرِ خارجہ نجلا منگوش سے بات چیت کے اعلان کے بعد لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے سربراہ نے اتوار کو اپنی وزیرِ خارجہ کو معطل کر دیا اور انہیں تحقیقات کے لیے بھیج دیا۔

ملک کی صدارتی کونسل جو ریاست کے سربراہ کے طور پر کام کرتی ہے، کے ردعمل اور وضاحت کے مطالبے کے بعد وزیرِ اعظم عبدالحمید دبیبہ نے معطلی کا حکم جاری کیا۔

لیبیا کی سیاست میں مشاورتی کردار کی حامل اعلیٰ ریاستی کونسل نے بھی اجلاس کی رپورٹس پر "حیرت" کا اظہار کیا اور کہا کہ اس عمل کے ذمہ داروں کو "جوابدہ ہونا چاہیے۔"

دبیبہ نے اتوار کی شام کو فیس بک پر پوسٹ کیے گئے ایک سرکاری فیصلے میں کہا کہ وزیرِ خارجہ منگوش کو "عارضی طور پر معطل" کر دیا گیا ہے اور انہیں وزیرِ انصاف کی سربراہی میں ایک کمیشن کے ذریعے "انتظامی تحقیقات" سے گذرنا ہو گا۔

ملاقات کے بارے میں اسرائیل کے بیان کہ وزراء نے ممکنہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا، کے ردِعمل کے طور پر اتوار کی شام طرابلس اور اس کے مضافات میں سڑکوں پر مظاہرے شروع ہو گئے جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے انکار کی علامت ہیں۔ یہ احتجاج دوسرے شہروں تک پھیل گیا جہاں نوجوان لوگوں نے سڑکیں بلاک کیں، ٹائر جلائے اور فلسطینی پرچم لہرایا۔

نیوز سائٹ دی لیبیا اپ ڈیٹ نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین نے روم میں ہونے والی منگوش-کوہن میٹنگ کی مذمت کرنے کے لیے طرابلس میں وزارتِ خارجہ کے ہیڈ کوارٹر پر یلغار کر دی۔

'صرف ایک معمول کی ملاقات'

لیبیا کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ منگوش نے اسرائیل کے نمائندوں سے ملاقات کو مسترد کر دیا تھا اور جو کچھ ہوا وہ "اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں ہونے والی میٹنگ کے دوران ایک غیر تیار شدہ اور معمول کا آمنا سامنا تھا۔"

لیبیا کی وزارت نے ایک بیان میں اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ "اس واقعے کو" ایک "ملاقات یا گفتگو" کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مالاقات میں "کوئی گفتگو، معاہدے یا مشاورت" شامل نہیں تھی اور مزید کہا کہ وزارت اسرائیل کے ساتھ معاملات کو "معمول پر لانے کو مکمل اور قطعاً مسترد کرنے کی تجدید" کرتی ہے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کوہن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں نے "لیبیا کے یہودیوں کے ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا جس میں ملک میں عبادت گاہوں اور یہودی قبرستانوں کی تزئین و آرائش شامل تھی۔"

کوہن نے بیان میں کہا، "میں نے وزیرِ خارجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں وسیع امکانات کے بارے میں بات کی۔"

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ملاقات میں اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے سہولت فراہم کی اور مزید کہا کہ انہوں نے انسانی مسائل، زراعت اور پانی کے انتظام میں ممکنہ تعاون اور اسرائیلی امداد پر تبادلہ خیال کیا۔

روم کی طرف سے ملاقات کی کوئی فوری تصدیق نہیں ہوئی۔

اس سے قبل اتوار کی شام لیبیا کے الاحرار ٹی وی کے مطابق ترجمان نجوا وہبہ کی خط و کتابت کے حوالے سے لیبیا کی صدارتی کونسل نے حکومت سے "وضاحت" کی درخواست کی۔

صدارتی کونسل میں لیبیا کے تینوں صوبوں کی نمائندگی کرنے والے تین اراکین شامل ہیں جس کے پاس کچھ انتظامی اختیارات ہیں اور یہ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ سیاسی عمل سے نکلی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یہ پیشرفت لیبیا کی ریاست کی خارجہ پالیسی کی عکاسی نہیں کرتی، لیبیا کے قومی استحکام کی نمائندگی نہیں کرتی اور اسے لیبیا کے قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے جو 'صہیونی ادارے' کے ساتھ معمول کے تعلقات کو جرم قرار دیتے ہیں۔" بیان میں حکومت کے سربراہ سے کہا گیا ہے کہ "اگر ملاقات ہوئی ہے تو قانون کا اطلاق کریں۔"

ابراہیم معاہدات

2020 کے بعد سے اسرائیل نے امریکہ کی ثالثی میں نام نہاد "ابراہیم معاہدات" کے ذریعے متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا اقدام کیا ہے۔

لیبیا کے برسوں کے تنازعات اور حکومتی کنٹرول کے معاملے پر اس کی تلخ اندرونی تقسیم اور طرابلس انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے کسی بھی اقدام کے جواز کی وجہ سے ملک کی خارجہ پالیسی پیچیدہ ہے۔

قومی اتحاد کی حکومت 2021 کے اوائل میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ امن عمل کے ذریعے قائم کی گئی تھی لیکن انتخابات کے انعقاد کی ناکام کوشش کے بعد 2022 کے اوائل سے مشرق میں قائم پارلیمنٹ اس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رہی ہے۔

جی این یو کی طرف سے گذشتہ خارجہ پالیسی کے اقدامات کو پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا اور انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ترکئی کے ساتھ کیے گئے معاہدات بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں