بوسہ تنازع کے حوالے سے نئی تصاویر نے غصہ مزید بڑھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے صدر لوئس روبیلز کے خواتین کے ورلڈ کپ کے فائنل کے دوران کھلاڑی جینی ہرموسو کے بوسے سے پیدا ہونے والے ہنگامے اور سکینڈل کے درمیان فیڈریشن نے ناقابل معافی غلطی کردی۔

اس وقت میں جب فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی روبیلز کے رویے اور رضامندی کے بغیر ہرموسو کے ہونٹوں پر بوسہ لینے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے فیڈریشن نے کھلاڑی ہرموسو کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے تصاویر کی ایک نئی سیریز شائع کردی۔ تصاویر کے ساتھ اپنے بیان میں فیڈریشن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ تصاویر ثابت کرتی ہیں کہ یہ ہرموسو ہی تھی جس نے فیڈریشن کے صدر کو بوسہ دینے کی شروعات کی یا بوسے کی ترغیب دی تھی۔

فیڈریشن نے روبیلز کے متعلق الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور خاتون کھلاڑی پر مقدمہ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ تاہم کچھ دیر بعد ہی فیڈریشن نے اپنا بیان حذف کردیا۔

جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران روبیلز نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ہرموسو کو اٹھانے کے بعد چھوٹے بوسے کے لیے کہا تھا۔ اس کی ہرموسو نے واضح تردید کردی تھی اور کہا تھا کہ فیڈریشن کی جانب سے اس پر صدر کے الزامات کو اپنانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا ہے۔

واضح رہے اس بوسہ بازی کے سکینڈل کے رد عمل میں سپین کی ورلڈ کپ جیتنے والی خواتین کی ٹیم کے 23 کھلاڑیوں نے سکواڈ کے دیگر 32 ارکان کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ اگر روبیلز انچارج رہے تو وہ دوبارہ اپنے ملک کے لیے نہیں کھیلیں گی۔ بیک روم عملے کے گیارہ ارکان نے بھی روبیلز کی حمایت کے دباؤ میں آکر استعفیٰ دے دیا۔

واضح رہے بین الاقوامی فٹ بال ایسوسی ایشن (فیفا) نے ہسپانوی فیڈریشن کے صدر کو معطل کر دیا ہے اور فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی ان کے رویے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں