سعودی ولی عہد کے مملکت کو لاجسٹکس کاعالمی مرکز بنانے کے لیے ماسٹرپلان کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت میں لاجسٹکس مراکز کے قیام کے لیے ماسٹر پلان کا اجراء کر دیا ہے۔

اس ماسٹر پلان کا مقصد لاجسٹک کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا، مقامی معیشت کو متنوع بنانا، اور تین اہم براعظموں: ایشیا، یورپ اور افریقا کے درمیان جغرافیائی محل وقوع کو دیکھتے ہوئے مملکت کی ایک معروف سرمایہ کاری منزل اور عالمی لاجسٹک مرکز کے طور پر حیثیت میں اضافہ کرنا ہے۔

سعودی ولی عہد سپریم کمیٹی برائے ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس کے چیئرمین بھی ہیں۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ یہ منصوبہ قومی ٹرانسپورٹ اورلاجسٹکس حکمتِ عملی (این ٹی ایل ایس) کی جانب سے اہداف کے طور پرطے کردہ اقدامات کے پیکج کا حصہ ہے۔اس کا مقصد معیشت کی معاونت کے لیے لاجسٹک سیکٹرکو ترقی دینا اور بین الاقوامی تجارتی نیٹ ورکس اور عالمی سپلائی چینز سے روابط میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ منصوبہ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دے گا اوراس سے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔لاجسٹکس مراکز کے ماسٹر پلان میں 10کروڑ مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر59 مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔ان میں الریاض ریجن میں 12 ، مکہ مکرمہ ریجن میں 12 ، مشرقی خطے میں 17 ، اور باقی مملکت میں 18 مراکزہوں گے۔ اس وقت عمل درآمد کے مختلف مراحل میں 21 مراکز ہیں اور تمام مراکز 2030 تک مکمل ہوجائیں گے۔

یہ مراکز مقامی صنعتوں کو اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ سعودی مصنوعات برآمد کرنے، لاجسٹکس مراکز اور تقسیم کار مراکز کے درمیان تیز رفتار مربوط لنک کی سہولت مہیا کریں گے۔نیز ای کامرس کی معاونت اور لاجسٹکس کا مسلسل اورمؤثر انداز میں سراغ لگانے کی سہولت مہیا کریں گے۔

یہ مراکز لاجسٹکس کی سرگرمیوں کے لیے لائسنس جاری کرنے میں سہولت فراہم کریں گے، خاص طور پر مشترکہ لاجسٹکس لائسنس کے اجراء اور 1500 سے زیادہ مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی لاجسٹکس کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں کے تعاون سے فصاح اقدام (سعودی کسٹمز میں مربوط ایک ای سسٹم) کے آغاز کے اجازت ناموں کے اجرا کا عمل تیزرفتار اور مربوط بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں