لیبیا کی وزیر خارجہ اور اسرائیلی ہم منصب کی ملاقات پر احتجاج ، وزیر خارجہ غائب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا کی وزیر خارجہ نجلاء المنقوش کی پچھلے ہفتے روم میں اپنے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن سے ہوئی ملاقات کی خبر نے ملک میں غم و غصے کی لہر کو بھڑکا دیا۔گذشتہ چند گھنٹوں کے میں کئی شہروں، خاص طور پر دارالحکومت طرابلس میں متعدد مظاہرے ہوئے۔

مظاہرین نے وزیر کی مذمت کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا۔تاہم، وزیر کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں ابہام نے گھیر لیا۔ افواہیں یہ ہیں کہ وہ ملک چھوڑ کر معیتیقہ ہوائی اڈے کے ذریعے ترکی چلی گئی ہیں۔


اسرائیلی بیان

اتوار کو یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس انکشاف کیا کہ اسرائیل اور لیبیا کے وزرائے خارجہ نے گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان اپنی نوعیت کے پہلے سفارتی اقدام میں ملاقات کی۔

کوہن نے کہا، "میں نے سکریٹری آف سٹیٹ سے بات کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی صلاحیت کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔"


ہم نے سفر میں معاونت نہیں کی

داخلی سلامتی ایجنسی نے اتوار کی رات دیر گئے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس کی جانب سے وزیر خارجہ کو اس سفر میں معاونت نہیں دی گئی۔

ایجنسی نے کہا، "وہ معمول کے مطابق، باقاعدہ، نجی، یا صدارتی ہال سے نہیں گزری تھیں۔"

ایجنسی نے تصدیق کی کہ اس کے پاس ہوائی اڈے پر روانگی کے نگرانی کرنے والے کیمروں کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ وزیر پر عارضی سفری پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کا نام اس وقت تک انتظار کی فہرستوں میں شامل تھا جب تک کہ وہ تحقیقات کی تعمیل نہیں کرتیں۔

اس کے علاوہ، انہوں نے ریاستی اداروں اور املاک کو سبوتاژ کرنے کے لیے افواہیں پھیلانے اور اکسانے کے خلاف انتباہ جاری کیا، اور کہا کہ شر پسند عناصر کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

وزارت کی عمارت میں توڑ پھوڑ

دارالحکومت طرابلس میں مظاہرین نے وزارت خارجہ کی عمارت پر دھاوا بول دیا، سڑکوں پر آگ لگا دی اور وزیر اعظم کی عمارت کے سامنے حکومت کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کیا۔

ان میں سے کچھ وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ کے گھر کے سامنے جمع ہوئے۔ اگرچہ وزیر اعظم الدبیبہ نے اعلان کیا تھا کہ وزیر خارجہ کو معطل کر دیا گیا ہے اور وزیر قانون، وزیر لوکل گورنمنٹ، اور کابینہکے ایک رکن پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے تحقیقات جاری ہیں۔

صدارتی کونسل نے بھی حکومت سے اس ملاقات کے بارے میں وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ملاقات عارضی اور غیر سرکاری تھی، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کے امکان کو مسترد کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کی پہلے سے تیاری نہیں کی گئی تھی ۔

ہنگامی اجلاس

لیبیا کی پارلیمنٹ نے ہونے والی تازہ ترین پیشرفت پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے آج پیر کو ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔

ریاست کی سپریم کونسل نے اس فعل کو انجام دینے والے یا اس میں حصہ لینے والے پر اخلاقی، قانونی اور تاریخی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے اجلاس میں اپنی حیرت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی متعلقہ افراد سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

لیبیا کی وزیر خارجہ نجلا المنقوش اور ان کے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن
لیبیا کی وزیر خارجہ نجلا المنقوش اور ان کے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن

قابل ذکر ہے کہ شمالی افریقہ کے دیگر ممالک کی طرح لیبیا میں بھی یہودیوں کا بھرپور ورثہ ہے۔لیکن کرنل معمر قذافی کی کئی دہائیوں پر محیط حکمرانی کے دوران ہزاروں یہودیوں کو ملک سے بے دخل کر دیا گیا اور کئی عبادت گاہوں کو تباہ کر دیا گیا۔

لیبیا 2011 میں قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے انتشار کا شکار ہے۔

جب کہ اس وقت ملک پر دو مسابقتی حکومتیں قائم ہیں، ایک مغرب میں الدبیبہ کی سربراہی میں، اور دوسری مشرق میں اسامہ حماد کی سربراہی میں، جسے پارلیمنٹ اور فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر کی حمایت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں