واشنگٹن ایرانی نژاد جرمن جمشید کے ساتھ روابط کی وضاحت کرے: وزارتِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران میں سزائے موت پانے والے ایرانی نژادجرمن شہری جمشید شرمہد کے ساتھ اپنے روابط کی وضاحت کرنی چاہیے۔

ناصر کنعانی کا یہ بیان امریکا کے ایلچی برائے ایران ابرام پیلے کی جمعہ کو شرمہد کے اہل خانہ سے ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔جمشید شرمہد کو 2008 میں ہونے والے مہلک بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اورانھیں ایران میں بادشاہت کے حامی گروپ کی قیادت کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

شرمہد کے پاس امریکا میں بھی اقامت ہے۔انھیں فروری میں ایران کی ایک انقلابی عدالت نے ’’زمین پر بدعنوانی‘‘(شر پھیلانے) کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی۔

ان کی بیٹی نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے سے شرمہد کو خارج نہ کرے۔اس کے تحت جنوبی کوریا میں ایرانی فنڈز میں سے چھے ارب ڈالر غیرمنجمد کرکے ایک تیسرے ملک میں ایران کے حوالے کیے جارہے ہیں۔

ایران نے اس کے بدلے میں 10 اگست کو چار امریکی شہری قیدیوں کو جیلوں سے نکال کر گھروں میں نظربند کردیا تھا، جہاں وہ پہلے سے ہی گھر میں نظربند پانچویں امریکی شہری کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔معاہدے کے پہلے مرحلے میں ان پانچوں کو بالآخر اسلامی جمہوریہ ایران چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

ناصر کنعانی نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔انھوں نے اس معاہدے کی سہولت کاری میں ہمسایہ خلیجی عرب ریاستوں قطر اور عمان کے ’’تعمیری کردار‘‘کا شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں