اسرائیلی وزیر سے ملاقات کا بھانڈہ پھوٹنے کے بعد لیبی وزیرخارجہ ترکیہ کیوں فرار ہوئیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا اور اسرائیل کے وزراء خارجہ کی اٹلی میں ملاقات کی خبر افشاء ہونے کے بعد دونوں ممالک کی حکومتیں سیاسی اور سفارتی بحران کا شکار ہیں۔ لیبیا کی معطل وزیرخارجہ نجلاء المنقوش نےخبر کے افشاء کے بعد راہ فرار اختیار کی اور ترکیہ چلی گئی ہیں۔

لیبیا کی "قومی اتحاد" کی حکومت میں معطل وزیر خارجہ ’معیتیقہ‘ ایئرپورٹ سے نجی طیارے کے ذریعے ترکیہ فرار ہونے کے بعد استنبول پہنچ گئیں۔

ترک "اناطولیہ" ایجنسی نے پیر کے روز سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ "فلائٹ ٹریکنگ ڈیوائسز نے انٹرنل سکیورٹی ایجنسی کی مدد سے اتوار کی رات لیبیا سے روانہ ہونے کے بعد المنقوش کے طیارے کے استنبول ایئرپورٹ پر پہنچنے کی تصدیق کی۔"

لیبیا کی داخلی سلامتی ایجنسی نے المنقوش کے سفر کی اجازت دینے یا سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے "غیر مصدقہ خبر" کی تردید کی۔ پتا چلا کہ وہ لیبیا کے معیتیقہ بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ترکیہ روانہ ہوئیں۔ داخلی سلامتی ایجنسی نے اتوار کی رات دیر گئے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس کی جانب سے وزیر خارجہ کو اس سفر میں معاونت نہیں دی گئی۔

ایجنسی نے کہا، "وہ معمول کے مطابق، باقاعدہ، نجی، یا صدارتی ہال سے نہیں گزری تھیں۔"

ایجنسی نے تصدیق کی کہ اس کے پاس ہوائی اڈے پر روانگی کے نگرانی کرنے والے
کیمروں کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ وزیر پر عارضی سفری پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کا نام اس وقت تک انتظار کی فہرستوں میں شامل تھا جب تک کہ وہ تحقیقات کی تعمیل نہیں کرتیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے ریاستی اداروں اور املاک کو سبوتاژ کرنے کے لیے افواہیں پھیلانے اور اکسانے کے خلاف انتباہ جاری کیا اور کہا کہ شر پسند عناصر کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

عبوری "قومی اتحاد" کی حکومت کے سربراہ، عبد الحمید الدبیبہ نے اتوار اوار پیر کی درمیانی شب کو فیصلہ کیا کہ المنقوش کو کام سے معطل کر دیا جائے اور اس کے خلاف تحقیقات شروع کی جائیں۔

الدبیبہ نے نوجوانوں کے وزیر فتح اللہ عبداللطیف الزانی کو عارضی طور پر خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون کا قائم مقام وزیر مقرر کیا ہے۔

المنقوش کی استنبول آمد کے بارے میں ترک حکومت یا ترک وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، لیکن سفارتی ذرائع اور مبصرین کا خیال ہے کہ لیبیا میں عوامی غم وغصے کو دیکھ کر المنقوش نے کسی دوسرے ملک میں پناہ لینے کے لییے ترکیہ کا انتخاب کیا۔ انقرہ اور دبیبہ حکومت کے درمیان مضبوط روابط دبیبہ پر ترکیہ کے اثرو نفوذ اور المنقوش کو ترکیہ میں مکمل تحفظ کی امید انہیں استنبول کھنچ لائی ہے۔

المنقوش کو مغربی لیبیا کی عبوری حکومت کے سب سے موثر وزراء میں سے ایک سمجھا جاتا تھا، وہ اپنے عہدے کی وجہ سے اکثر ترکیہ آتی رہتی ہیں اور اس کی حکومت سے بھی رابطہ کرتی ہیں۔ ان کے سابق ترک وزیر خارجہ مولود جاووش اوگلو جو موجودہ ترک پارلیمنٹ کے اسپیکرہیں کے ساتھ بھی قریبی روابط رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ منقوش کا ترکیہ کا انتخاب جو اسرائیل کے ساتھ ملاقاتوں اور بات چیت کی مخالفت نہیں کرتا انقرہ کے دبیبہ حکومت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت پر ان کے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ اس کے خلاف ردعمل کو کم کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں