ایرانی دھمکیاں ؛مشرقِ اوسط میں اضافی امریکی افواج بدستورموجود رہیں گی:پینٹاگون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ مشرق اوسط میں حال ہی میں تعینات کیے گئے ہزاروں امریکی فوجی خطے ہی میں بدستور موجود رہیں گے۔

پینٹاگون کی نائب پریس سکریٹری سبرینا سنگھ نے منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ جب تک خطے میں ان امریکی فورسز کی ضرورت رہے گی، وہ موجود رہیں گی۔

امریکا نے حالیہ مہینوں میں ایران اور روس کی دھمکیوں کے جواب میں اس ماہ کے اوائل میں خطے میں اضافی فوجی اور دفاعی سازوسامان بھیجا تھا اور وہ پہلے سے اعلان کردہ تعیناتی کا حصہ تھے۔

گذشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے علاقے میں ایمفیبیئس ریڈینیس گروپ / میرین سریع الحرکت یونٹ (اے آر جی / ایم ای یو) کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔ یہ ایف -35 ، ایف -16 ، اور ایک گائیڈڈ میزائل تباہ کن یو ایس ایس تھامس ہڈنر (ڈی ڈی جی -116) کے علاوہ تھے، جنھیں خطے کی جانب روانہ کیا گیا تھا۔

سبرینا سنگھ سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا شام یا عراق میں امریکی فوجیوں یا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے خلاف ایرانی خطرات میں کوئی کمی آئی ہے؟ تو انھوں نے کہا:’’ہم گذشتہ ہفتوں سے سپاہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کا مشاہدہ کر رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے اس خطرے کو کم ہوتے نہیں دیکھا ہے، لہٰذا افواج کو خطے سے باہر نکالنے کی کوئی وجہ نہیں ہے‘‘۔

نائب ترجمان نے واضح کیا کہ جب تک ایرانی خطرہ تبدیل نہیں ہوجاتا، امریکی فوج کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں