مصری حکومت نے قوصون کا تاریخی مینار مسمار کرنے کی افواہوں کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر قوصون شہر کی قدیم مسجد کے مینار کو منہدم کرنے کے فیصلے کی خبروں نے ایک نئے تنازع کو جنم دیا جس کے بعد مصری کابینہ کو اس کی وضاحت کرنا پڑی۔

کل پیر کو مصری کابینہ کے میڈیا سنٹر نے وزیر سیاحت اور نوادرات سے رابطہ کیا جس نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قوصون کے قدیم مینار کے انہدام کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ میڈیا میں اس حوالے سے آنے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت نے واضح کر دیا ہے کہ مینار پر بحالی اور دیکھ بھال کا کام کیا جا رہا ہے۔ اس میں عمودی اور افقی دراڑیں موجود ہیں، جو اس کے ساختی توازن کو متاثر کرتی ہیں۔

وزارت سیاحت نے مزید کہا کہ رپورٹوں نے مینار میں واضح کم زوریوں کا انکشاف کیا تھا جس کی وجہ سے اسے گرانے یا نقصان پہنچانے کے کسی ارادے کے بغیر بحالی کا کام شروع کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ آثار قدیمہ کی عمارتوں میں سے ایک اسلامی یادگار کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور آثار قدیمہ کے تحفظ کے قانون کے تحت اس کی بحالی اور مرمت ضروری ہے۔

ممالیک دور کی یادگار

قوصون کا مینار 1250ء سے 1382 عیسوی تک ریاست بہاری مملوک کے دور کی یادگار ہے۔

مینار اسلامی نوادرات کے شعبے میں رجسٹرڈ سب سے اہم اسلامی یادگاروں میں سے ایک ہے اور اسلامی نوادرات کے طور پر اس کا نمبر 290 ہے۔

قوصون مسجد کا مینار بھی مملوک بہاری شہزادہ سیف الدین قوصون الساقی الناصری نے سنہ 736ھ بہ مطابق 1336ء میں بنایا تھا اور یہ قاہرہ کے خلیفہ ڈاریکٹوریٹ میں سیدی جلال اسٹریٹ میں واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں