مغرب ایران کو تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے:ابراہیم رئیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ مغرب ان کے ملک کو تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

انھوں نے دارالحکومت تہران میں منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’دشمن نے دُہری حکمت عملی پر عمل کرنے کی کوشش کی: ایک ایران کو دنیا سے الگ تھلگ کرنا اور دوسرا ایرانی قوم کی حوصلہ شکنی کرنا‘‘مگر وہ ان دونوں حکمت عملیوں کے ساتھ ناکام رہا ہے اور وہ ایران کو الگ تھلگ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا‘‘۔

ابراہیم رئیسی 2018 میں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے کوسبوتاژکرنے کے بعد سے ایران پر پابندیوں کے نفاذ اور ستمبر 2022 میں پولیس کے زیرحراست نوجوان کردخاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے ردعمل میں شروع ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دے رہے تھے۔

انتہائی قدامت پسند صدر نے کہا کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے پابندیوں کے خاتمے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ہم ملک کی معیشت کو مغربی ممالک کی خواہشات سے نہیں جوڑ رہے ہیں۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی میں رواں ماہ اس وقت کمی واقع ہوئی جب امریکا نے جنوبی کوریا میں منجمد کیے گئے چھے ارب ڈالر کے فنڈز کی واپسی کے بدلے میں ایران سے پانچ امریکی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن اس نازک معاہدے میں 2024ء میں امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل جوہری معاہدے کی واپسی کا امکان شامل نہیں ہے۔

ابراہیم رئیسی نے نیوزکانفرنس میں سفارتی کامیابیوں پر روشنی ڈالی جن میں سعودی عرب جیسے عرب ممالک کے ساتھ مفاہمت، شنگھائی تعاون تنظیم میں اس کی رکنیت اور برکس گروپ میں شمولیت کی دعوت شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اُبھرتے ہوئے ممالک کے ساتھ اس طرح کے اتحاد امریکا کے یک طرفہ تسلط کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اچھا موقع کی نمائندگی کرتے ہیں‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’ان کی حکومت ایران کی معیشت پرڈالر کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں