منقوش اور کوہن کی ملاقات آشکار ہونے کے بعد امریکہ اسرائیل پر برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی وزیر خارجہ نجلا منقوش کی اپنے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن کے ساتھ ملاقات کے انکشاف کے بعد اسرائیلی حکام نے پیر کو اعلان کیا کہ امریکی حکام نے تل ابیب کو غصے کا پیغام دیا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ اس سے لیبیا کو ابراہم معاہدے کے قریب لانے کے لیے امریکہ کی دو سالہ کوشش ختم ہو سکتی ہے۔ اس سے دوسرے ملکوں کو اسرائیل کے ساتھ تعاون اور مفاہمت کو معمول پر لانے کی ترغیب ملے گی۔

انہوں نے اسرائیلی جواز کو بھی ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے دیکھا کہ خبر کے افشا ہونے کے بعد اسرائیلی وزارت خارجہ صحافیوں سے کہ سکتے تھے کہ کوئی تبصرہ نہیں۔ لیکن اس کے بجائے وزیر خارجہ باہر جا کر خفیہ میٹنگ کے بارے میں عوامی طور پر گانا گانا شروع کردیا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ ایلی کوہن نے گزشتہ ہفتے اٹلی میں منقوش کے ساتھ ملاقات کی۔ یہ ملاقات دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات میں کمی کے باوجود کی گئی ۔

کوہن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے لیبیا کی وزیر خارجہ کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بڑی صلاحیت کے بارے میں بات کی کی گئی۔ کوہن نے زور دیا کہ ہم لیبیا کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے اس ملاقات کو تاریخی اور تعلقات کی تعمیر کا ایک قدم بھی قرار دیا۔

یاد رہے اس ملاقات کے انکشاف کے بعد اتوار کے روز دارالحکومت طرابلس اور لیبیا کے دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ان مظاہروں کے باعث قومی اتحاد کی حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ کو بیان دینا پڑا کہ لیبیا اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے بعد المنقوش کو کام سے روک دیا گیا۔ پھر کو انہیں برطرف بھی کردیا گیا۔

لیبیا کی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ملاقات عارضی اور غیر سرکاری تھی اور وہ اس کے لیے پہلے سے تیار نہیں تھی۔ متحدہ حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتی سربراہ الدبیبہ کو اپنی وزیر خارجہ اور چیف اسرائیلی سفارت کار کے درمیان ہونے والی بات چیت کا علم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں