20 سال میں پانچویں بڑے زلزلے کے لیے تیار رہیں: ولندیزی ماہر کا خوفناک انتباہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کچھ عرصہ خاموشی کے بعد، ولندیزی ماہر فرینک ہوگریبیٹس اپنی نئی وارننگ کے ساتھ واپس آگئے ہیں۔

اس بار، انہوں نے ایک ایسے زلزلے کے بارے میں خبردار کیا ہے جس کی شدت 8 ڈگری سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس کی وجہ زمین ،مریخ اور نیپچون کا ایک سیدھ میں آنا اور ان دو سیاروں ک حوالے سے چاند کی پوزیشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمین مریخ اور نیپچون کے درمیان آہستہ آہستہ چل رہی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انہوں نے گذشتہ نومبر میں اس حالت کا حوالہ دیا تھا۔

انہوں نے بہت بڑے اور ہولناک زلزلے کا امکان ظاہر کیا جس کی شدت ٹیکٹونک دباؤ کی سطح کے لحاظ سے 8 ڈگری سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

منگل کی صبح یورپی-میڈیٹیرینین سیسمولوجیکل سینٹر نے کہا کہ انڈونیشیا میں بالی اور لومبوک کے جزائر کے شمال میں سمندر میں 7 شدت کا زلزلہ آیا، جس سے رہائشی عمارتوں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی شدت 7.1 بتائی ہے۔

ہوگریبٹس نے انڈونیشیا کے زلزلے پر فوری تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "اب تک مریخ اور نیپچون کے ساتھ چاند کی پوزیشن کا ردعمل نسبتا معتدل ہے۔

انہوں نے ماضی میں اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے رکٹر اسکیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 8.5 درجے سے زیادہ طاقتور زلزلے کی توقع کرتے ہیں۔

گذشتہ اتوار، اپنے تازہ ترین بلیٹن میں جو ڈچ سائنسدان باقاعدگی سے ارضیاتی ادارے کی ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں کہا کہ یہ ممکن ہے کہ اس مہینے کی 29 تاریخ (آج) کے آس پاس زلزلوں میں اضافہ ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ "نظامِ شمسی میں ہم مریخ اور نیپچون کے ساتھ دوہرے دائیں زاویے کی پوزیشن دیکھتے ہیں جس اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ 2-3 دنوں کے اندر، ہم ایک طاقتور زلزلے کا شکار ہو سکتے ہیں، ماضی میں ایسا ہو چکا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک زور دار زلزلہ کا انحصار اس علاقے میں زمین کی پرت پر ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس کا مریخ اور نیپچون کے ساتھ ساتھ مشتری اور یورینس کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کون سا علاقہ زلزلے کا نشانہ بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ"اگر یہ اگلے 24 گھنٹوں یا اگلے چند ہفتوں میں واقع ہوتا ہے، تو یہ 20 سالوں میں اس شدت کا پانچواں بڑا زلزلہ ہوگا"

ولندیزی ماہر کے انتباہات سے پوری دنیا میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے، انہوں نے گذشتہ کچھ عرصے کے دوران واقع ہونے سے پہلے کئی بار زلزلوں یا جھٹکوں کی پیش گوئی کی ہے۔

وہ اپنی پیشین گوئیوں کو سیاروں کی حرکات سے جوڑتے ہیں، جن میں سب سے اہم 6 فروری کو ترک سرزمین پر آنے والے تباہ کن زلزلے کے بارے میں پیشین گوئی تھی جس میں 50,000 سے زیادہ اموات اور ہزاروں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے۔ انہوں نے زلزلے سے تین روز قبل اس کی پیش گوئی کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں