افریقی یونین کی گیبون میں فوجی بغاوت کی شدید الفاظ میں مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقی یونین کمیشن کے سربراہ موسیٰ فکی محمد نے گیبون میں فوجی بغاوت کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

تیل کی دولت سے مالا مال وسط افریقی ریاست میں باغی حکام نے بدھ کے روز متنازع انتخابات کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ان انتخابات میں صدر علی بونگو اوندیمبا کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔

فوجی بغاوت کے قائدین نے 64 سالہ بونگو کو گھر میں نظربند کر دیا ہے اور ان کے ایک بیٹے کو غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔واضح رہے کہ بونگو کے خاندان نے گیبون پر 55 سال سے زیادہ عرصے تک حکومت کی ہے۔

موسیٰ فکی محمد نے فرانسیسی زبان میں افریقی یونین کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’’وہ جمہوریہ گیبون کی صورت حال پرگہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں اور ملک میں فوجی بغاوت کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے گیبون کی قومی فوج اور سیکورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جمہوری اقدار پر سختی سے عمل کریں، جمہوریہ کے صدر، ان کے خاندان کے ارکان اور ان کی حکومت کے افراد کی جسمانی سالمیت کی ضمانت دیں۔

افریقی یونین کمیشن کے سربراہ نے بدھ کے روز گیبون میں رونما ہونے والے واقعات کو افریقی یونین کے قانونی اور سیاسی بندوبست کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن گیبون میں تمام سیاسی، سول اور فوجی کرداروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ ان پُرامن سیاسی راستوں کی حمایت کریں جو ملک میں جمہوری آئینی نظام کی تیزی سے واپسی کا باعث بنیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں