امریکہ ٹائی ٹینک ملبے کی تلاشی مہم کو روکنے کے لیے کوشاں

حکومت کے خدشات میں سے یہ بھی ہے کہ نوادرات اور ممکنہ انسانی باقیات کے آرام میں خلل پڑنے کا امکان ہے جو اب بھی ملبے کے اندر ہو سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکومت عدالت کے ذریعے ٹائی ٹینک کے ملبے کی تلاشی اور تاریخی نوعیت کے نوادرات کی بازیابی کی مہم کو روکنے کے لیے کوشاں ہے، جو اگلے سال مئی میں ہونے والی ہے۔

حکومت کے مطابق یہ ایک وفاقی قانون کے فعال ہونے اور ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت آتا ہے جو جہاز کو توڑنے سے بچاتا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وفاقی قانون اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ٹائٹینک کے ہل میں داخلے یا ملبے سے براہ راست رابطہ پر پابندی ہے۔

حکومت کے خدشات میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے نوادرات کو خطرہ ہے اور کسی بھی ممکنہ انسانی باقیات کے آرام میں خلل کا امکان ہے جو اب بھی ملبے میں ہو سکتی ہیں۔

ٹائٹینک کے ملبے کا 3D منظر - اے ایف پی

قابل ذکر ہے کہ ڈوبنے والے بحری جہاز ٹائی ٹینک کی سیر کی آخری مہم چند ماہ قبل تباہی کا شکار ہوئی تھی اور اس تباہی کی خبریں کافی عرصے سے دنیا بھر کے میڈیا کی سرخیوں میں ہیں۔

ٹائٹن آبدوز 18 جون کو ڈوبے ہوئے جہاز کا ملبہ جاتے ہوئے پھٹ گئی تھی اور اس میں سوار 5 مسافر ہلاک ہوگئے تھے، جن میں برطانوی ارب پتی 58 سالہ ہمیش ہارڈنگ، پاکستانی نژاد مشہور بزنس مین 48 سالہ شہزادہ داؤد اور ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نرگولیٹ، اور اوشن گیٹ ایکسپیڈیشنز کے بانی اور سی ای او، مہم کے منتظم رش اسٹاکٹن شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں