ترکیہ کے ساتھ بحیرہ اسود معاہدے کے متبادل تجویز پر بات چیت ہوگی: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزیر خارجہ سرگئی لافروف اوران کے ترک ہم منصب خاقان فدان آیندہ دو روز میں ہونے والی ملاقات میں بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے کے متبادل کے طورپر ماسکو کی تجویز پر تبادلہ خیال کریں گے۔

روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت روس قطر کی مالی مدد سے دس لاکھ ٹن اناج رعایتی قیمت پر ترکیہ بھیجے گا جسے ترکیہ میں پروسیس کیا جائے گا اور پھر انتہائی ضرورت مند ممالک کو بھیجا جائے گا۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’’ہم اس منصوبے کو بحیرہ اسود کے معاہدے کے بہترین کام کرنے والے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں‘‘۔

روس نے گذشتہ ماہ ترکیہ اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک سال قبل طے شدہ معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔اس کے تحت یوکرین جنگ کے باوجود بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اناج برآمد کر سکتا تھا۔

اس کے بعد سے روس نے یوکرین کی بندرگاہوں اور اناج کی دکانوں پر بار بار حملے کیے ہیں۔اس طرز عمل پر یوکرین اور مغرب نے روس پر خوراک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ اس نے اس معاہدے سے دستبرداری اس لیے کی کیونکہ غریب ترین ممالک کو بہت کم اناج مل رہا تھا اور اسے اب بھی اپنے اناج اور کھاد کی برآمد میں رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے ادائی، انشورنس اور بندرگاہوں تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔

فدان جمعرات اور جمعہ کو ماسکو میں سرگئی لافروف سے ملاقات کریں گے اور کریملن نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن بھی جلد ہی روس کا دورہ کریں گے۔

روسی بیان میں کہا گیا ہے کہ لافروف ماسکو کے اس مؤقف کا اعادہ کریں گے کہ اناج کے معاہدے کے خاتمے کے بعد وہ یوکرین جانے والے تمام بحری جہازوں کو ممکنہ طور پر فوجی سامان سے لدے جہاز سمجھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں