گیبون : علی بونگو برطرف، فوجی جنتا کے جنرل بریس اولیگوئی نگوما عبوری صدر نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افریقی ملک گیبون میں بغاوت کے رہ نماؤں نے بدھ کے روز ری پبلکن گارڈ کے سربراہ جنرل بریس اولیگوئی نگوما کو عبوری صدر نامزد کیا ہے۔

ٹی وی چینل گیبون 24 سے نشر ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق:’’جنرل اولیگوئی نگوما بریس کو متفقہ طور پر اداروں کی منتقلی اور بحالی کی کمیٹی کا چیئرمین اور انتقال اقتدار کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے‘‘۔

بیان کے مطابق چند گھنٹوں کے اندر ہی جرنیلوں نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ منتقلی کی قیادت کون کرے گا اور متفقہ ووٹ کے ذریعے جنرل بریس اولیگوئی نگوما کو مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

دریں اثنا، اپنی رہائش گاہ پر نظربندی کے بعد صدر علی بونگو نے ایک ویڈیو بیان میں غیر ملکی اتحادیوں سے اپیل کی ہے اور ان سے درخواست کی کہ وہ ان کی اور ان کے اہل خانہ کی طرف سے بات کریں۔انھوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔

بونگو کی حیثیت میں بدھ کی علی الصباح ایک ڈرامائی تبدیلی ہوئی تھی جب الیکشن کمیشن نے انھیں گذشتہ ہفتے کے روز منعقدہ متنازع انتخابات کا فاتح قرار دیا تھا لیکن تیل کی دولت سے مالا مال وسط افریقی ریاست میں فوجی جنتا نے متنازع انتخابات کے بعد اقتدار پر قبضہ کرلیا اور انھیں چلتا کیا۔ان انتخابات میں صدر علی بونگو اوندیمبا کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔

گیبون کے دارالحکومت لیبرویل کی سڑکوں پر سیکڑوں افراد نے فوج کی مداخلت کا جشن منایا جبکہ اقوام متحدہ، افریقی یونین اور فرانس نے ملک میں فوجی بغاوت کی مذمت کی ہے۔

گیبون 2020 ء کے بعد سے مغربی اور وسطی افریقا میں واقع آٹھواں ملک ہے جہاں فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے اور یہ نیجر کے بعد حالیہ مہینوں میں دوسرا فوجی قبضہ ہے۔اس سے پہلے فوجی افسروں نے مالی، گنی، برکینا فاسو اور چاڈ میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے 1990 کی دہائی سے جمہوری کامیابیوں کو مٹا دیا گیا ہے اور خطے میں تزویراتی مفادات رکھنے والی غیر ملکی طاقتوں میں خوف پیدا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ علی بونگو نے 2009 میں اپنے والد عمر کی موت کے بعد صدارتی منصب سنبھالا تھا۔عمر بونگو نے 1967 سے گیبون پر حکومت کی تھی۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس خاندان نے ریاست کی تیل اور کان کنی کی دولت کو اپنے 23 لاکھ لوگوں کے ساتھ بانٹنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔

گیبون کے فوجی افسروں نے،جو خود کو منتقلی اور اداروں کی بحالی کی کمیٹی کہتے ہیں، کہا کہ ملک کو ’’ایک سنگین ادارہ جاتی، سیاسی، معاشی اور سماجی بحران" کا سامنا ہے، اور یہ کہ 26 اگست کا ووٹ قابل اعتماد نہیں تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے صدر کے بیٹے نورالدین بونگو ویلنٹن اور دیگر کو بدعنوانی اور غداری کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

فوجی بغاوت کے قائدین نے 64 سالہ بونگو کو ان کی رہائش گاہ پر نظربند کردیا ہے۔بونگوخاندان نے گیبون پر 55 سال سے زیادہ عرصے تک حکومت کی ہے۔ یاد رہے کہ 2016ء میں منعقدہ انتخابات میں بونگو کی کامیابی کے بعد پرتشدد بدامنی پھیل گئی تھی اور 2019 میں ان کے خلاف بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

افریقی یونین کمیشن کے سربراہ موسیٰ فکی محمد نے گیبون میں فوجی بغاوت کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انھوں نے نے فرانسیسی زبان میں افریقی یونین کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’’وہ جمہوریہ گیبون کی صورت حال پرگہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں اور ملک میں فوجی بغاوت کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے گیبون کی قومی فوج اور سیکورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جمہوری اقدار پر سختی سے عمل کریں، جمہوریہ کے صدر، ان کے خاندان کے ارکان اور ان کی حکومت کے افراد کی جسمانی سالمیت کی ضمانت دیں۔

کمیشن کے سربراہ نے گیبون میں رونما ہونے والے واقعات کو افریقی یونین کے قانونی اور سیاسی بندوبست اوراقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں