یمن اور حوثی

"زینبیات ملیشیا" صنعا کی سینٹرل جیل میں خواتین قیدیوں کے خلاف جرائم کی مرتکب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی انسانی حقوق کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حوثی حراستی مراکز میں خواتین قیدیوں کی نگرانی پرمامور نام نہاد "زینبیات" ملیشیا کی مسلح خواتین اہلکار قید کی گئی خواتین کے خلاف ظالمانہ اور پُرتشدد خلاف ورزیوں کی مرتکب پائی گئی ہیں۔
انسانی حقوق کے ذرائع کا کہنا کہ حوثیوں کی مقرر کر خواتین اہلکار قیدی خواتین کے کپڑے پھاڑتی اور ان کی توہین کی مرتکب ہوتی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ قیدیوں نے جیل انتظامیہ کو شکایات پیش کیں لیکن انہوں نے زینبیات کی سرگرمیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔

"یمن فیوچر" میڈیا پلیٹ فارم نے انسانی حقوق کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ انہیں صنعاء کی سینٹرل جیل میں متعدد قیدیوں کی طرف سے شکایت موصول ہوئی تھی جس میں انہوں نے دو وارڈنز کی جانب سے کی جانے والی منظم خلاف ورزیوں کے بارے میں بات کی تھی۔ ان وارڈنر کو "ام الکرار" اور ام زید کی کنیت سے جانا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک کا اصل نام کریمہ المرونی ہے "ام زید" جو خواتین قیدیوں کے ساتھ تکبر کے ساتھ بدسلوکی کرتی اور دن بھر ان کے ساتھ تشدد اور سختی سے پیش آتی ہیں۔

ذرائع نے ایک خاتون قیدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب وہ قیدیوں کے ایک گروپ کے ساتھ جیل کے صحن میں تھیں ام الکرار اور ام زید ان کے پاس آئیں اور انتہائی بدتمیزی اور تکلیف دہ الفاظ کے ساتھ ان کی توہین کی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ دو گارڈز نے دوسری لڑکی کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ ان عورتوں نے قیئدیوں کی چاردریں پھاڑ ڈالیں۔ یہی نہیں بلکہ حملے کے دوران قیدی کے ہاتھ میں قینچی سے بھی وار کیا جس کی وجہ سے اسے گہرا زخم لگا۔"

ذرائع کے مطابق لڑکیوں نے جیل انتظامیہ کو شکایت درج کروائی، لیکن بدقسمتی سے انہیں کوئی جواب نہیں ملا کیونکہ انتظامیہ ’’زینبیات خواتین جیلروں‘‘ کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "زینبیات" ملیشیا خواتین قیدیوں کے خلاف دن بھر منظم خلاف ورزیاں کرتی ہے مگر اس کی انتقامی کارروائیوں کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں