گیبون کے برطرف صدر کی صاحب زادی کا عجیب رد عمل، باغی لیڈر کو تختہ الٹنے پر مبارکباد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گیبون کے منتخب صدر علی بونگو کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد سے برطرف صدر کی صاحب زادی کے رد عمل پر لوگ حیران ہیں کیونکہ اس نے اپنے والد کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والی فوجی جنتا کو مبارک باد پیش کی ہے۔

معزول صدر کی بیٹی نے ’فیس بک‘ پر ایک پوسٹ میں باغی لیڈر کو مبارک باد کا پیغام پیش کیا۔

معزول صدر کی بیٹی ملیکا بونگو نے لکھا کہ "میں عبوری اتھارٹی کے سربراہ برائس اولیگے نگوما کو مبارکباد پیش کرتی ہوں"۔ان کے اس بیان کو حیران کن قرا دیا جا رہا ہے۔

مگر حقیقیت اس کے برعکس ہے

تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ مذکورہ بالا اکاؤنٹ جعلی ہے۔

گیبون کے پریس ذرائع نے بھی ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کواس اکاؤنٹ کے غلط ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملیکا اور اس کا خاندان ان کے والد کے 14 سال تک جاری رہنے والے اقتدار کے مستفید ہونے والوں میں شامل تھے۔

علی بونگو جنہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا کل بدھ کی سہ پہر اپنی پہلی ویڈیو میں نمودار ہوا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے اپنے ساتھیوں سے اپیل کی کہ وہ بغاوت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں علی بونگو اونڈیمبا ہوں۔ میں گیبون کا آئینی صدر ہوں، میں دنیا بھر کے اپنے تمام دوستوں کو پیغام بھیج رہا ہوں کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں آواز اٹھائیں جنہوں نے مجھے اور میرے خاندان کو گرفتار کیا۔ میں اس وقت اپنی رہائش گاہ پر نظربند ہوں"۔

قابل ذکر ہے کہ یہ بغاوت 14 سال سے زائد عرصے تک ملک کے صدر رہنے والے 64 سالہ علی بونگو کے گذشتہ ہفتے کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں تیسری بار جیتنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

دریں اثناء ان کے بیٹے نورالدین بونگو والنٹان کو ان کے چھ دیگر قریبی مشیروں کے ساتھ، "غداری، عوامی فنڈز کے غبن اور جعلسازی" کے الزام میں "گرفتار" کر لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں